عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 14

14 یہ در حقیقت اسلام کی تعلیم ہے جو ہمیں قرآن کریم نے دی ہے۔قرآن یہ اعلان کرتا ہے کہ :۔لا إِكْرَاهَ فِي الدِّين (سورة البقره: 257) ترجمہ: دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔یہ حکم نہ صرف اس الزام کو ر ڈ کر رہا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے بلکہ مسلمانوں کو یہ بتا رہا ہے کہ ایمان لانا ایک ایسا معاملہ ہے جو بندہ اور اُس کے خدا کے درمیان ہے جس میں کسی طرح سے بھی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ہر انسان کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے اور عبادت کرنے کی اجازت ہے لیکن اگر مذہب کے نام پر جاری سرگرمیاں دوسروں کے لیے ضرر رساں ہو جائیں اور ملکی قانون کے خلاف ہوں تب اُس ملک کے قانون نافذ کرنے والے اُن کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں کیونکہ اگر کسی مذہب میں کوئی ظالمانہ فعل کیا جارہا ہے تو وہ ہر گز کسی ایسی تعلیم کا حصہ نہیں ہو سکتا جو خدا تعالیٰ کے کسی بھی نبی نے دی ہو۔علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قیام امن کے لیے یہ ایک بنیادی اُصول ہے۔اگر کوئی معاشرہ، گروہ یا حکومت آج آپ کے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں حارج ہے اور کل کو حالات آپ کے حق میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ کبھی بھی اپنے دل میں اُن کے لیے کوئی کینہ یا نفرت نہ رکھیں۔آپ کو کبھی انتقام کا خیال نہیں آنا چاہیے بلکہ آپ کا فرض عدل وانصاف کا قیام ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے:۔ترجمہ: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔“ (سورة المائده: 9) یہ وہ تعلیم ہے جو معاشرہ میں امن قائم کرتی ہے۔فرمایا کہ اپنے دشمن کے معاملہ میں بھی عدل کو نہ چھوڑو۔ابتدائی تاریخ اسلام بتاتی ہے کہ اس تعلیم پر عمل کیا گیا تھا اور عدل وانصاف کے تمام تقاضے پورے