عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 142
142 کریں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ سلامتی کا پیغام پھیلائیں۔آپ کا عملی نمونہ ہمارے سامنے ہے کہ آپ ہمیشہ تمام غیر مسلموں کو خواہ وہ یہودی ہوں عیسائی ہوں یا کسی دوسرے مذہب کے پیرو کا رسلام کیا کرتے تھے۔آپ نے ایسا اس لیے کیا کہ آپ جانتے تھے کہ تمام لوگ خدا کی مخلوق ہیں اور خدا کا نام ”السلام“ ہے۔لہذا وہ تمام بنی نوع انسان کے لیے امن اور سلامتی کا خواہش مند ہے۔امن کے حوالہ سے میں نے اسلام کی کچھ تعلیمات پیش کی ہیں لیکن میں واضح کر دوں کہ وقت کی کمی کے باعث میں نے صرف چند پہلوؤں کا ذکر کیا ہے۔حقیقت میں اسلام تمام انسانوں کے لیے امن اور سلامتی کی تعلیمات اور احکام سے بھرا ہوا ہے۔قیام انصاف کے حوالہ سے قرآن کریم کیا فرماتا ہے؟ سورۃ نمبر 5 آیت نمبر 9 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ترجمہ: ”اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر مضبوطی سے نگرانی کرتے ہوئے انصاف کی تائید میں گواہ بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہر گز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو یقینا اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔(سورۃ المائدہ: 9) اس طرح اس آیت میں قرآن کریم انصاف کے اعلیٰ ترین ممکنہ معیار کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔یہ حکم ان لوگوں کے لیے جو خود کو مسلمان کہتے ہیں اور پھر بھی ظلم و تعدی سے کام لیتے ہیں کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا نہ ہی یہ ان لوگوں کے لیے جو اسلام کو جابر اور انتہا پسند مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں یا ایسا سمجھتے ہیں اعتراض کی کوئی گنجائش چھوڑتا ہے۔قرآن کریم نے اس سے بھی بڑھ کر عدل و انصاف کا بہترین معیار پیش فرمایا ہے۔یہ صرف انصاف کی تاکید نہیں کرتا بلکہ عدل کی اس حد تک تاکید کرتا ہے کہ فرماتا ہے: "اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین کے خلاف۔خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی بہترین نگہبان ہے۔پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا عدل سے گریز کرو۔اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلو تہی کر گئے تو یقینا اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔“ پس دُنیا میں قیام امن کے لیے انصاف کے یہی معیار ہیں جو معاشرہ کی سب سے بنیادی سطح سے لے کر (سورة النساء : 136 )