عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 139 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 139

امنِ عالم۔وقت کی ضرورت 139 جو ایٹم بم چھوٹے ممالک کے پاس ہیں وہ شاید دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے بموں سے کہیں زیادہ طاقت ور ہیں۔پس یہ بے یقینی اور تنازعات کا ماحول ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو دنیا میں قیام امن کے ہیں۔یہ بے لیے لمحہ خواہاں ہیں۔آج دُنیا کی الم ناک صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف تو لوگ قیام امن کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف اپنی انا کا شکار ہو کر فخر اور تکبر کے لبادہ میں ملبوس ہیں اور اپنی برتری اور طاقت ثابت کرنے کے لیے ہر طاقت ور حکومت ہر ممکن قدم اٹھانے پر کمر بستہ ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دیر پا قیام امن اور مستقبل میں ایسی جنگوں کی روک تھام کے لیے دُنیا نے باہمی افہام و تفہیم سے اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی تھی لیکن ایسا لگتا ہے جیسے لیگ آف نیشنز کی طرح اقوام متحدہ بھی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہو کر اپنا مقام ومرتبہ کھو رہی ہے۔اگر انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے گئے تو پھر امن کے لیے خواہ جتنی چاہے تنظیمیں بنالی جائیں ان کی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔میں نے ابھی لیگ آف نیشنز کی ناکامی کا ذکر کیا ہے۔یہ تنظیم پہلی جنگ عظیم کے بعد قائم کی گئی تھی جس کا واحد مقصد دُنیا میں امن کا قیام تھا لیکن یہ دوسری جنگِ عظم کو نہ روک سکی جس کے نتیجہ میں بہت زیادہ تباہی ہوئی جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اس جنگ کے نتیجہ میں نیوزی لینڈ میں بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ایک اندازہ کے مطابق نیوزی لینڈ کے گیارہ ہزار باشندے مارے گئے تھے جن میں سے اکثریت فوجیوں کی تھی حالانکہ نیوزی لینڈ جنگ کے مرکز سے کافی دور تھا یہاں عموماً اس طرح ہلاکتیں نہیں ہوئیں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ بحیثیت مجموعی اُس جنگ میں معصوم عوام کی اموات فوجیوں سے کہیں زیادہ تھیں۔ذرا سوچیں کہ مارے جانے والے ان عام معصوم لوگوں کا کیا قصور تھا جن میں لا تعداد خواتین اور بچے بھی شامل تھے؟ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو ان ممالک میں رہتے ہیں جو براہِ راست اس جنگ کی لپیٹ میں آئے تھے ان کے دلوں میں پیدائشی اور جبلی طور پر جنگ سے نفرت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔یقیناً وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس پر حملہ کی صورت میں ایک شہری اپنے ملک کا دفاع کرے اور اپنی قوم کی آزادی کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہے تاہم اگر تنازعہ کو دوستانہ اور پُر امن طریق پر باہمی بات چیت اور حکمت عملی سے حل کیا جا سکتا ہو تو پھر