عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 138
138 بلاشبہ آج دنیا کے حالات انتہائی خطرناک ہو چکے ہیں اور ساری دُنیا کے لیے لمحہ فکر یہ ہیں۔اگر چہ کچھ بڑے تنازعات عرب دنیا میں ظاہر ہورہے ہیں لیکن فی الحقیقت ہر ذی شعور اور عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ تنازعات محض اس علاقہ تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی بھی حکومت اور اس کی عوام کے مابین تنازعہ ایک وسیع عالمی تنازعہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ بڑی طاقتوں کے مابین دو بلاک پہلے ہی بن رہے ہیں۔ایک بلاک شامی حکومت کی حمایت کر رہا ہے جبکہ دوسرا باغی گروپ کا حامی ہے۔پس واضح ہے کہ یہ صورت حال صرف مسلمان ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ باقی دنیا کے لیے بھی انتہائی خطرہ کی گھنٹی ہے۔ہمیں گزشتہ صدی میں ہونے والی دو عالمگیر جنگوں کا دل دہلا دینے والا تجر بہ بھی نہیں بھولنا چاہیے۔خصوصاً دوسری جنگ عظیم میں ہونے والی تباہی فقید المثال ہے۔محض روایتی ہتھیاروں کے استعمال سے ہی گنجان آباد ہنستے بستے قصبے اور شہر مکمل طور پر تباہ ہو گئے اور کھنڈر بنا دیئے گئے اور لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔دوسری جنگ عظیم میں دنیا نے مکمل بر بادی والا وہ واقعہ دیکھا جب جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کیا گیا جس نے ایسی تباہی مچائی کہ سننے والا آج بھی کانپ اُٹھتا ہے۔ہیروشیما اور ناگا ساکی کے عجائب گھر اس خوف اور دہشت کی یاد تازہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔دوسری جنگ عظیم میں قریباً ستر ملین لوگ ہلاک ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے چالیس ملین عام شہری تھے۔پس فوجیوں سے زیادہ عام لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔مزید برآں جنگ کے بعد کے نتائج بہت دل دہلا دینے والے تھے جن میں جنگ کے نتیجہ میں بعد میں ہونے والی ہلاکتیں بھی لاکھوں کی تعداد میں تھیں۔ایٹم بموں کے استعمال کے کئی سال بعد تک تاب کاری اثرات کی وجہ سے نومولود بچوں میں خطرناک جسمانی معذوری ظاہر ہوتی رہی۔آج کے دور میں بعض چھوٹے ممالک کے پاس بھی نیوکلیائی ہتھیار ہیں اور ان کے راہنما جنگ کے لیے فورا آمادہ ہو جانے والے لوگ ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنے اعمال کے تباہ کن نتائج کی کوئی پروا نہیں۔اگر ہم ایٹمی جنگ کا تصور کریں تو جو تصویر ابھرتی ہے وہ انسان کو ہلا کر رکھ دینے کے لیے کافی ہے۔آج