اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 87
اُردو کی کتاب چهارم آواز میں ایک یقین ، ایک شوکت اور ایک کشش ہوتی ہے جیسے عید کا چاند دیکھ لینے والا دوسروں کو بڑے وثوق اور شوق سے چاند دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔خدائے تعالی کو پائے بغیر آواز کھو کھلی اور بے اثر رہتی ہے۔پھر جو شخص خدا کو پالیتا ہے وہ دعوت الی اللہ کا پورا اہل ہو جاتا ہے اسے کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں رہتی۔بعض لوگ تبلیغ کے معاملہ میں اپنی کم علمی کا عذر پیش کرتے ہیں۔یہ نفس کا دھوکا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جوسب سے بڑے اور کامیاب داعی الی اللہ تھے وہ ظاہری علوم سے بالکل بے بہرہ تھے۔آپ کے امی ہونے میں ایک یہ حکمت بھی تھی کہ کم علمی کے سوال کو باطل کیا جائے۔جو شخص خدا کو پالیتا ہے اسے دلائل خود بخود آ جاتے ہیں۔پس کتابوں کا سوال بعد میں پیدا ہوتا ہے اول اور اصل کام یہی ہے کہ خدائے تعالی سے ذاتی طور پر مضبوط تعلق قائم کیا جائے کسی فرد نے خدا کو پالیا ہے یا نہیں اس کا ثبوت اس کی گفتار اور کردار سے مل سکتا ہے جو شخص عمل صالح نہیں رکھتا گالی گلوچ سے پر ہیز نہیں کرتا دوسروں کے حقوق غصب کرتا ہے ہے ظلم کرتا اور لین دین کے معاملات میں صاف نہیں وہ ۸۷