اُردو کی کتب (کتاب چہارم)

by Other Authors

Page 16 of 189

اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 16

اُردو کی کتاب چهارم انکار کر دیا۔بلکہ مدینہ پر حملہ کرنے کی سوچنے لگے۔حضرت ابو بکر نے خطرہ دیکھ کر مناسب انتظامات کئے اور منکرین زکوۃ کی اچھی طرح سرکوبی کی۔بعض لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی نبوت کے جھوٹے دعوے کئے۔اسود عنسی، مسیلمہ کذاب طلیحہ بن خویلد اور ایک عورت سجاح زیادہ معروف ہیں۔اسود عنسی تو آنحضرت کی زندگی میں ہی قتل کیا گیا باقیوں نے ارتداد کی رو سے فائدہ اٹھا کر قبائل عرب کو بغاوت پر آمادہ کیا۔حضرت ابو بکر نے سب کو زیر کیا۔مسیلمہ کذاب قتل ہوا۔طلیحہ نے راہ فرار اختیار کی۔یہ حضرت ابوبکر کی ہمت اور استقامت ہی تھی جس کے باعث دُور دراز کے علاقوں میں آباد باغیوں کی بھی سرکوبی ہوئی اور سارا جزیرہ عرب مسخر ہوکر اسلامی سلطنت میں شامل ہو گیا۔اندرونی خلفشار کو دُور کرنے کے علاوہ حضرت ابو بکر نے پورے عزم کے ساتھ بیرونی دشمنوں کی طرف توجہ کی اور اس زمانہ کی دو عظیم طاقتوں یعنی کسری شاہ ایران اور قیصر روم سے ٹکر لی۔عراق اور شام کی فتح کی طرف متوجہ ہوئے۔یرموک کے مقام پر رومی سلطنت سے ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی جس نے رومی سلطنت کی تسخیر کے دروازے کھول دیئے اور رومیوں کے حوصلے پست کر دیئے۔حضرت ابو بک کے دور میں جن فتوحات کا آغاز ہوا ان کی تکمیل خلافت ثانیہ کے دور میں ہوئی حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے حفاظت قرآن ۱۶