اُردو کی کتب (کتاب سوم)

by Other Authors

Page 84 of 111

اُردو کی کتب (کتاب سوم) — Page 84

: اُردو کی کتاب سوم : التجا کی۔حضرت داؤد علیہ السلام نے پورا واقعہ اور دونوں کے بیانات سننے کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ یہ بچہ بڑی بیوی کا ہی ہے۔جب وہ دونوں فیصلہ سن کر دربار سے لوٹ رہی تھیں تو حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام ملے۔چھوٹی نے فریاد کی کہ مجھے انصاف نہیں ملا۔میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔مجھ مظلومہ کو انصاف دلوائیے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے تمام حالات سننے کے بعد فرمایا میں اس تنازعہ کا فیصلہ ابھی کرتا ہوں۔ایک چھری منگوا تا ہوں اور بچے کے دو ٹکڑے کر کے آدھا بڑی کو دے دیتا ہوں اور آدھا چھوٹی کو۔چھوٹی بیوی جو بچے کی حقیقی ماں تھی یہ سنتے ہی تڑپ اُٹھی اور کہنے لگی اللہ آپ پر رحم کرے ایسا نہ کیجئے یہ بچہ بڑی بیوی کو ہی دے دیجئے یہ اُسی کا ہے میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوتی ہوں۔بڑی بیوی خاموش کھڑی رہی۔اس منظر اور دونوں کے رد عمل سے حضرت سلیمان علیہ السلام حقیقت حال سمجھ گئے اور بچہ چھوٹی بیوی کے سپر د کر دیا کیونکہ آپ نے دیکھا کہ اُس کی حقیقی اور سچی ماں یہ برداشت ہی نہ کر سکی کہ اس کا بچہ اس کی نظروں کے سامنے دوٹکڑے کر دیا جائے اس لئے بے ساختہ شیخ اٹھی یہ بچہ بڑی کا ہے اُسی کو دے دو۔اور بڑی بیوی کی خاموشی یہ بتا رہی تھی کہ اگر بچہ دوٹکڑے ہو جائے تو اُسے کوئی پرواہ نہیں۔اور حقیقی ماں یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی۔۸۴