اُردو کی کتب (کتاب سوم)

by Other Authors

Page 34 of 111

اُردو کی کتب (کتاب سوم) — Page 34

: اُردو کی کتاب سوم : اپنی رائے دو۔ورقہ نے حال پوچھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب واردات بیان فرمائی۔ورقہ نے سن کر کہا کہ اے محمد یہ تو وہ فرشتہ ہے جسے اللہ نے موسیٰ پر نازل کیا تھا۔اے کاش میں آپ کے نبوت کے زمانہ میں جوان ہوتا۔اے کاش کہ میں اس وقت تک زندہ ہی رہتا جب آپ کی قوم آپ کو شہر سے نکال دے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا سچ مچ یہ لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے۔ورقہ نے کہاہاں جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے ہمیشہ لوگ آپ جیسے نبیوں سے دشمنی کرتے ہیں اور اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ پوری طاقت کے ساتھ آپ کی مدد کروں گا مگر افسوس کہ چند روز کے بعد ہی ورقہ کی وفات ہو گئی اور وحی کا آنا بھی کچھ مدت کے لئے رک گیا۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دفعہ وحی آنے کے بعد اس کے رُک جانے کا حال بیان فرمانے لگے تو فرمایا کہ ایک دن میں چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی او پر نظر اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے میں ڈر گیا۔گھر کو واپس آیا اور کہنے لگا کہ کمبل اوڑھاؤ کمبل اوڑھاؤ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی: ترجمہ: اے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہو۔اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے پروردگار کی بڑائی ۳۴