اُردو کی کتب (کتابِ دوم) — Page 56
تیئیسواں سبق اردو کی کتاب دوم جامعہ احمدیہ قادیان عزیز طلباء ! آپ جس دینی درسگاہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اُس کا نام جامعہ احمدیہ ہے۔یہ جامعہ اس لحاظ سے یکتا و منفرد ہے کہ اس کی بنیاد ایک امتی نبی نے رکھی تھی۔اور اس کے قیام کی وجہ یہ ہوئی کہ ۱۹۰۵ء میں دو صحابی حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ ( اللہ اُن سے راضی ہو گیا ) اور حضرت مولانا برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو آپ کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ جماعت احمدیہ کے جید علماء بشری تقاضے کے مطابق وفات پاتے جارہے ہیں اور اُن کی جگہ لینے والے نئے علماء تیار کرنے کے لئے کسی درسگاہ کا ہونا ضروری ہے۔چنانچہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں تعلیم الاسلام ہائی اسکول کے ساتھ ہی شاخ دینیات کے نام سے ذی القعدہ ۱۳۲۳ھ مطابق جنوری ۱۹۰۶ء میں اس درسگاہ کی بنیا د رکھی گئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۹ء کواس کا نام مدرسہ احمد یہ رکھا گیا۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مورخہ ۱۵ را پریل //////////////