حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 18
حضرت ام حبيبة رض 18 آپ ﷺ نے فرمایا:۔ہاں ہر شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اُسے امن دیا جائے گا۔۔۔جو شخص ابوسفیان کے گھر میں گھس جائے اس کو بھی امن دیا جائے حضرت ابوسفیان کے ایمان لانے سے حضرت اُم حبیبہ بہت خوش ہوئیں آپ کی والدہ ہندہ بھی مسلمانوں کی شدید دشمن تھیں۔انہوں نے جنگ اُحد کے بعد پیارے آقا کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا یہ بہت بہادر اور بے خوف تھیں۔جب ابوسفیان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں اعلان کرتے سنا تو آگے بڑھ کر اپنے خاوند کی داڑھی پکڑ لی اور مکہ والوں کو آواز میں دینی شروع کیں کہ آؤ اس پڑھے احمق کو قتل کر دو فتح مکہ کے بعد جب آپ نے عام معافی کا اعلان فرما دیا تو مکہ والوں نے گروہ در گروہ آکر اسلام قبول کر لیا۔مردوں کے بعد خواتین آئیں تو ان میں بندہ بھی نقاب پہن کر آئی نقاب پہننا پر دو کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ وہ اتنے مظالم کر چکی تھی اور چاہتی تھی کہ کوئی اسے پہچان نہ سکے۔اس اجتماعی بیعت میں شرکت سے حضرت ام حبیبہ کی امی بھی مسلمان ہو گئیں۔ام حبیبہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس خاندان پر بڑے بڑے فضل کئے۔والدین اسلام کے دائرے میں آ گئے۔آنحضرت معہ کا