حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 17
أم المؤمنین حضرت ام سلمی صلى الله 17 صلى الله حالت میں زبان سے نکلا۔اہل عراق نے حسین کو قتل کیا۔خدا ان کو قتل کرے اور حسین کو جنہوں نے ذلیل کیا خدا ان لوگوں پر لعنت کرے۔(30) لا آپ کو پڑھنا لکھنا بھی آتا تھا۔لیکن جب حضور علے کے نکاح میں آگئیں تو اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے ارشادات کو محفوظ کرتی رہتیں اور آپ ان سے سوال کر کے اپنے علم کو بڑھاتی رہتیں۔آپ نے علم صرف سیکھا ہی نہیں بلکہ آگے صحابہ وصحابیات اور تابعین میں بھی پھیلایا۔محمود بن لبید فرماتے تھے کہ آنحضرت علی کی سب ہی ازواج مطہرات صلى الله آپ ملے کے ارشادات کو یاد کرتیں مگر حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمی کی ہم پلہ اور کوئی نہ تھی۔کہا جاتا ہے کہ اگر حضرت ام سلمیٰ کے فتاوی جمع کئے جائیں تو ایک رسالہ بن جائے۔(31) رض گو کہ حضرت ابو ہریرہ اور عمر بہت بڑے عالم تھے مگر حضرت ام سلمی سے انہوں نے بھی فیض حاصل کیا۔حدیثیں بیان کرنے کے اعتبار سے عورتوں میں حضرت عائشہ کے بعد آپ کا نمبر آتا ہے۔آپ سے 578 احادیث مروی ہیں۔(24) حضرت اُم سلمیٰ کو بے شمار احادیث زبانی یاد تھیں۔صحابہ آپ سے شرعی مسائل دریافت کرتے۔حضرت اُم سلمیٰ کی کوشش یہ ہوتی کہ سوال کرنے والے کو صاف اور واضح جواب دیتیں۔(35) آپ گفتگو کرتیں تو خوبصورت اور نیچے تلے جملے استعمال کرتیں۔جب عبارت لکھتیں تو اس میں ادب کی