حضرت اُمّ طاہر

by Other Authors

Page 28 of 47

حضرت اُمّ طاہر — Page 28

سیرت حضرت سیدہ مریم النساء ( ام طاہر صاحبہ ) دعائیں کیوں قبول نہ ہوئیں۔کیونکہ خدا آقا ہے وہ کبھی بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور بھی بندوں سے اپنی مرضی منوانا چاہتا ہے۔17 تمام جماعت میں آپ کی بیماری کے دوران مسلسل دعاؤں کی غیر معمولی کیفیت پائی جاتی تھی انفرادی دعاؤں کے علاوہ باجماعت تہجد میں خصوصی طور پر آپ کی صحت کے لئے دعائیں کی جاتی رہیں اور صدقات کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔قادیان میں تو اس رنگ میں دعا ئیں ہوتی تھیں کہ جیسے لوگ ذبح ہورہے ہوں۔مگر بالآخر جیسا کہ حضور نے جماعت کو اس اندوہناک صدمہ کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا تھا مشیت ایزدی پوری ہوئی اور 5 مارچ 1944 ء کو حضرت سیدہ اُم طاہر صاحبہ اپنے رب کے حضور جو سب پیاروں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے حاضر ہوگئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ کی وفات کی خبر سُن کر قادیان میں ایک سناٹا چھا گیا اور ہر طرف اُداسی اور غمگینی پھیل گئی۔الفضل نے آپ کی وفات کے متعلق خبر دینے کے بعد لکھا کہ: ”موت بے شک ایک لازمی اور یقینی چیز ہے اور اس سے مفر ناممکن ہے مگر جب وہ اپنا وار کرتی ہے۔بالخصوص ایسی صورت میں جب کہ کوئی ایسا قیمتی وجود اس کا نشانہ ہو جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ مخلوق خدا کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں صرف ہو تو رنج وغم کی 28