حضرت اُمّ طاہر — Page 25
سیرت حضرت سیدہ مریم النساء (أم طاہر صاحبہ ) کے لئے جو لحاف تیار کروانے تھے ان کا کام سیدہ اُمم طاہر صاحبہ کے سپرد کیا اور تاکید کی کہ دو دن کے اندر اندر سارے لحاف تیار ہو جائیں تا کہ دیر ہونے کی وجہ سے غریبوں کو تکلیف نہ ہو۔حضرت سیّدہ ام طاہر نے دو دن سارا وقت لگا کر اور بہت سی کارکنات کو اپنے ساتھ رکھ کر یہ لطاف تیار کئے اور بے حد کوفت اُٹھائی اور یہ مشقت آخر کار آپ کی بیماری میں اضافہ کا باعث بنی۔بیماری تو کئی سال سے چل رہی تھی مگر عموماً اس کا اظہار کرنے میں حجاب محسوس کرتی تھیں اس لئے بظاہر ٹھیک نظر آتی تھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے ان تھک محنت کرتی تھیں۔حضرت طلیقہ مسیح الثانی اس کی تصویر کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں۔بیواؤں کی خبر گیری، بینائی کی پرورش ، کمزوروں کی پریش، جلسہ کا انتظام، باہر سے آنے والی مستورات کی مہمان نوازی اور خاطر مدارات غرض ہر بات میں انتظام کو آگے سے بہت ترقی دی اور جب یہ دیکھا جائے کہ اس انتظام کا اکثر حصہ گرم پانی سے بھری ہوئی ربڑ کی بوتلوں کے درمیان چار پائی پر لیٹے ہوئے کیا جاتا تھا۔تو احسان شناس کا دل اس کمزور ہستی کی محبت اور قدر سے بھر جاتا ہے۔اے میرے رب ! تو اس پر رحم کر اور مجھ پر بھی۔15 حضور جب ڈلہوزی کے سفر سے 22 نومبر 1943ء کو واپس تشریف لائے تو اس وقت حضرت اُمّم طاہر صاحبہ بظاہر بالکل اچھی تھیں مگر 24 گھنٹے کے 25