حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ — Page 8
حضرت اُم سلیم 8 واقعہ یوں ہے کہ ابو عمیر جو ام سلیم کے بہت ہی پیارے بیٹے تھے شدید بیمار ہو گئے۔ان دنوں ابو عمیر کے والد بوطلحہ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔اسی بیماری میں ابو عمیرا چانک فوت ہو گئے اس موقع پر ان کی والدہ اُم سلیم نے جنہیں اپنے بیٹے سے بہت محبت تھی۔کمال صبر کا نمونہ دکھایا۔وہ نہ تو خود پریشان ہو ئیں نہ سفر سے آتے ہی اپنے شوہر کو پریشان کیا۔بلکہ بچے کو اللہ کی امانت جان کر صبر کر لیا اور سب گھر والوں سے کہہ دیا کہ کوئی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی وفات کے بارہ میں نہ بتائے۔جب ابو طلحہ رات گئے واپس لوٹے اور بیمار کا حال پو چھا تو اہم سلیم نے بڑے صبر اور عقلمندی سے کام لیتے ہوئے ذومعنی جواب دیا کہ بچہ بہت سکون میں ہے۔ان کا مطلب تھا کہ وہ بیماری کی تکلیف سے آزاد ہو کر خدا کے حضور حاضر ہو چکا ہے۔ابوطلحہ سمجھے کہ شاید بچہ صحت یاب ہو گیا ہے۔پھر اُمِ سلیم نے ابوطلحہ کو کھانا پیش کیا اور وہ دونوں آرام سے سو گئے۔اگلی صبح جب نماز کے لئے مسجد نبوی جانے لگے تو ام سلیم نے انہیں روک کر پوچھا ابوطلحہ اگر کوئی شخص ہمارے پاس اپنی کوئی امانت رکھوائے اور پھر واپس مانگ لے تو کیا ہمیں وہ امانت واپس دینی چاہیئے یا نہیں؟ ابوطلحہ نے کہا ہاں کیوں نہیں ؟ اس پر ام سلیم نے ان سے کہا کہ پھر آپ اپنے