حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 21
حضرت اُم مظفر 21 اماں کو ملوانے لے گیا، میری والدہ اور اماں کے گھر ساتھ ساتھ تھے۔میں نے اپنی بیٹی کو انہاں کے پلنگ پر ساتھ لٹا دیا کہ یہ میری بیٹی ہے تو پنجانی میں کہنے لگیں گوی اے! (بیٹی ہے ) تھوڑی دیر کے بعد میں نے اس کو اُٹھایا تو احمد بی بی نے انہاں کو کہا کہ اودی اپنے شوق نال گرمی ملان لایا کچھ دینا نہیں؟ تو ایک عجیب سی مسکراہٹ چہرے پر آئی اور اپنے تکیے کے نیچے ہاتھ ڈال کر کچھ رقم مجھے دی اور میری اہلیہ شافی کی خیریت پوچھی۔گھر کے ماحول میں سب بچے آپ سے پنجابی میں مخاطب ہوتے آپس میں بھی پنجابی بولتے۔نانی اماں تو ہند کو پہنچابی میں جواب دیتیں جبکہ ابا جان اردو میں جواب دیتے۔اپنے بچوں کی صحت و عافیت دریافت کرنے کے لئے خطوط لکھتیں۔اُن کی خوشیوں میں خوش ہوتیں۔دعاؤں سے نوازتیں۔“ پٹھان گھرانوں کے افراد کا بہت خصوصی لحاظ تھا۔ان کی خاطر تواضع سے بہت خوش ہو تیں اپنے ملازموں سے بہت اچھا سلوک کرتیں۔بشیر ملازم ہونے کے باوجود بیٹے کی طرح تھا۔آپ کا سسرالی اور میکہ کے سب رشتہ داروں سے بڑا تعلق تھا۔