حضرت سرور سلطان صاحبہ

by Other Authors

Page 11 of 33

حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 11

حضرت ام مظفر شامل رہے۔11 یہ بڑی تکلیف کی بات تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سمدھی خلافت کے منکر ہو گئے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو اس کا بے حد دُکھ تھا۔دعا ئیں بھی کرتے اور خطوط لکھ کر سمجھانے کی کوشش بھی کرتے۔مگر اُن کی بیٹی کو اس بات پر تنگ نہ کرتے اور نہ ہی بیٹی اپنے باپ کی طرف داری کرتیں بلکہ خلافت سے مضبوطی سے وابستہ رہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے نانا جان سے پوچھا کہ آپ قریباً چالیس سال علیحدہ رہے اب کس طرح بیعت کی۔فرمانے لگے: میں اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت کو ر ڈ نہیں کرسکتا۔۔۔۔جب ہم علیحدہ ہوئے تو جماعت میں زیادہ با اثر اور معتمد شمار ہوتے تھے پھر اپنا ہیڈ کوارٹر لا ہور چنا۔جہاں بغیر ہمیں ملنے کی غرض کے لوگوں کی عام آمد و رفت تھی کیونکہ وہ اہم شہر تھا اور صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ۔ادھر قادیان جانے کے لئے خاصی مشقت کرنی پڑتی تھی۔قادیان ریلوے سٹیشن سے گیارہ بارہ میل کے فاصلے پر تھا یکوں پر تکلیف دہ سفر تین گھنٹے سے زائد کا تھا سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم نے جو عقیدہ پیش کیا وہ بہت نرم تھا لیکن باوجود اس کے ہم دن بدن کمزور اور