حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان — Page 5
حضرت ام حرام بنت ملحان 5 قیس بن عمرو بھی خدا کے فضل سے انہیں لوگوں میں شامل ہوئے۔یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے نور نے سارے گھرانے کو منور کر دیا اور سب خواتین اور مرد رسول اللہ علیہ پر اپنی جان فدا کرنے کے لئے تیار ہو صلى الله ہجرت نبوی علی کے بعد جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو دونوں باپ بیٹا غزوہ بدر میں 313 سرفروشوں میں شامل ہو کر بہت بہادری سے لڑے۔3ھ میں غزوہ اُحد میں جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جہاد میں پہنچے اور مردانہ وارلڑتے ہوئے شہید ہوئے۔حضرت اُم حرام نے دونوں بھائیوں ، خاوند اور بیٹے کی شہادت الله کو محبت الہی اور محبت رسول ﷺ میں بڑی دلیری سے برداشت کیا اور خود بھی راہ حق میں جان کی قربانی دینے کے لئے بے تاب رہنے لگیں۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد ان کا دوسرا نکاح جلیل القدر صحابی حضرت عبادہ بن صامت سے ہو گیا۔(2) قباء کی بستی مدینہ منورہ سے دومیل کے فاصلے پر تھی۔اسی بستی میں اسلام کی پہلی مسجد قباء کی بنیاد رکھی گئی۔اس مبارک بستی میں حضرت عبادہ بن صامت کا مکان تھا۔جس میں حضرت ام حرام بیاہ کر آئیں۔