حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان — Page 14
حضرت سمیہ بنت خباط له 2 شروع کر دیا۔اس پر کفار مکہ نے آپ ملنے کی شدید مخالفت شروع کر دی الله وہ نہ صرف آپ ﷺ کے جانی دشمن بن گئے بلکہ اسلام لانے والوں پر بھی طرح طرح کے ظلم کرنے لگے۔انہیں پریشان کرنے اور دمان اسلام سے دور کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔حتی کہ صاحب اثر افراد حضرت ابو بکر ، حضرت عثمان ، حضرت طلحہ بھی ان کے مظالم کا نشانہ بنے۔اس سے ان مسلمان اصحاب کی حالت زار کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے یارو مددگار تھے۔ان میں مرد اور عورت دونوں شامل تھے۔ان عظیم ہستیوں نے کمزوری اور بڑھاپے کے باوجود ان کفار مکہ کے ظلم اور سختی کا بڑے حوصلہ اور ہمت سے مقابلہ کیا اور شہادت کے مقام پر فائز ہو کر ہمیشہ کی زندگی پائی۔ان میں سر فہرست نام حضرت سمیہ بنت خباط کا ہے۔حضرت سمیہؓ بنت خباط کا شمار نہایت بلند پایہ صحابیات میں ہوتا ہے۔ان کے باپ دادا میں صرف ان کے والد خباط کا نام معلوم ہے کب اور کیسے مکہ پہنچے ؟ ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ایامِ جاہلیت میں مکہ کے ایک قبیلہ بنومخزوم کے رئیس