حضرت اُمِّ ہانی ؓ

by Other Authors

Page 5 of 18

حضرت اُمِّ ہانی ؓ — Page 5

حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنھا نوش فرمایا۔اس کے بعد ان کو دیا انہوں نے کہا میں روزے سے ہوں لیکن الله آپ اللہ کا جھوٹا واپس نہیں کرنا چاہتی۔حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر روزہ رمضان کی قضا کا ہے تو کسی دوسرے دن یہ روزہ رکھ لینا اور اگر محض نفل ہے تو اس کی قضا کرنے یا نہ کرنے کا تم کو اختیار ہے۔(7) اس روایت سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو آنحضور علے سے حد درجہ عقیدت و محبت تھی وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کر چکی تھیں اور روزے رکھا کرتی تھیں۔آپ خلوص دل اور خلوص نیت سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائی تھیں اور پھر اس پر ثابت قدم رہیں۔کوئی دنیاوی طاقت آپ کے ایمان کو نہ ہٹاسکی ، کوئی رشتہ روک نہ بن سکا۔حالانکہ ان کے شوہران کے قبول اسلام کی وجہ سے چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔چار بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کا بوجھ ان کے کمزور کندھوں پر تھا پھر بھی آپ نے انتہائی دلیری ، بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے حالات کا مقابلہ کیا اور خدا تعالیٰ کا دامن تھامے رکھا۔اُم ہانی رضی اللہ عنھا کے خاوند جو ایک اعلیٰ پائے کے شاعر تھے اپنے اشعار میں ان کو اسلام قبول کرنے کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات سے صلى الله آگاہ کیا اور یہ بتانا چاہا کہ دین محمدیہ کی اتباع سے انہیں صرف بھوک