تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 66

تحفه بغداد اردو تر جمه الصحيح وتشهد على وفاته قريبًا آیتیں صراحت سے شہادت دے رہی ہیں جنہیں من ثلاثين آية بالتصريح قد ہم نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں متلاشیان كتبناها في كتابنا : إزالة الأوهام" (حق) کے افادہ کے لئے تحریر کر دیا ہے۔لیکن اس إفادة للطالبين۔فإن تذكرت بعد کے بعد بھی اگر تو دمشق والی اس حدیث کا تذکرہ ذلك حديثا دمشقيًّا الذي ذکر کرے جو صحیح مسلم میں مذکور ہے تو جان لو کہ اس کی في ”مسلم“ فاعلم أنه فُسّر على تفسیر ظاہر پر (قیاس کرتے ہوئے) کی گئی ظاهره ولا شك أنه يُعارض ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ حدیث الفرقان على تفسیره الظاهر ظاہری تغییر کے اعتبار سے قرآن کریم اور اس کے ويُخالف بيناته ويخالف أحادیث بینات کے معارض ہے نیز ان دوسری احادیث أُخرى قد ذكرناها في الإزالة کے بھی مخالف ہے جن کا ذکر ہم ازالہ اوہام میں کر ولا يرضی مسلم أن یترک چکے ہیں۔اور کوئی مسلمان اس پر راضی نہیں ہوگا القرآن الیقینی القطعی بحدیث کہ وہ قرآن کو جو یقینی اور قطعی ہے ایک ایسی واحد لا يبلغ إلى مرتبة اليقين حدیث کی خاطر چھوڑ دے جو مرتبہ یقین تک نہیں ولو فعلنا كذلک و آثرنا پہنچتی ، اگر ہم ایسا کریں اور آحاد احادیث کو الآحاد على كتاب الله لفسد کتاب اللہ پر ترجیح دیں تو یقینا دین میں بگاڑ پیدا الدين وبطلت الملة و رفع ہو جائے گا، شریعت باطل ہو جائے گی، امان اُٹھ الأمان وتزلزل الإيمان واشتد جائے گا اور ایمان متزلزل ہو جائے گا اور کافروں کا اور علينا صولة الكافرين نعم ہم پر حملہ شدت اختیار کر جائے گا۔ہاں ( یہ درست نؤمن بالقدر المشترك الذی ہے کہ ہم ہر اُس قد رمشترک پر ایمان رکھتے ہیں لا يخالف القرآن وهو أنه جو قرآن کے مخالف نہ ہو اور وہ یہ ہے کہ نصاریٰ