تحفہٴ بغداد

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 87

تحفہٴ بغداد — Page 49

تحفه بغداد ۴۹ اردو تر جمه جعلك المسیح ابن مریم۔قل اللہ کے لئے ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔هــذا فـضـل ربـي وإني أجرد كبد یہ میرے رب کا فضل ہے اور میں تو اپنے آپ کو نفسى من ضروب الخطاب تمام قسم کے خطابات سے الگ رکھتا ہوں اور میں تو وإنى أحد من المسلمين مسلمانوں میں سے ایک ہوں۔وہ چاہتے ہیں کہ يريدون أن يطفئوا نور الله الله کے نور کو اپنے مونہہ کی پھونکوں سے بجھا دیں لیکن بأفواههم والله يتم نوره و یحیی اللہ تعالیٰ اپنے نور کو کمال تک پہنچائے گا اور دین کو الدين نريد أن ننزل علیک زندہ کرے گا۔ہم تجھ پر آسمان سے نشانات اُتارنا آيات من السماء ونمزق چاہتے ہیں اور دشمنوں کو ریزہ ریزہ کر دینا چاہتے الأعداء كل ممزق۔حُکم اللہ ہیں۔خدائے رحمن کا حکم ہے اس کے خلیفہ کے لئے بقية الحاشية۔والحُلل ويُنز لک بقیہ حاشیہ۔دے گا اور اپنی جناب سے انوار کے منازل من سلف من أولى العلم پیر بہن اور پوشاک تجھے پہنائے گا اور تجھے انبیاء و الأول من الأنبياء والصديقين، صدیقین میں سے گزشتہ اول درجہ کے اہل علم کے فحينئذٍ يُضاف إليك التكوين مراتب پر فائز فرمائے گا۔تب امر تکوین اور خوارق وخرق العادات فیری ذلک منک تجھے عطاء کئے جائیں گے پس یہ تصرفات ظاہر عقل اور في ظاهر العقل والحكم وهو فعل حکم میں تجھ سے دیکھے جائیں گے اور حقیقی علم میں وہ خدا الله وإرادته حقًا فی العلم فتدخل کا ارادہ اور فعل ہوں گے تب تو ایسے دردمند لوگوں اور حينئذ فى قومٍ مُوجَع وفى زمرة منكسر المزاج گروہ میں شامل ہو جائے گا کہ جن کے المنكسرين الذين انكسرت دلوں میں انکسار ہے اور جن کی بشری خواہشات چکنا قلوبهم وكسرت إراداتهم البشرية چور ہو گئی ہیں اور ان کی طبعی خواہشات ان سے الگ کر ت شهواتهم الطبيعية دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں ربانی ارادہ اور روزمرہ کی فاستؤنفت لهم إرادة ربانية خواہشات لازمه ان کے لئے ایک نئے رنگ میں ۵۳