تحفہٴ بغداد — Page 43
تحفه بغداد ۴۳ اردو تر جمه قُلُ إني أُمِرتُ وأنا أوّل یعنی معلوم ہو جائے کہ کون تجھ سے برگشتہ ہوتا ہے۔المؤمنين قُلُ جاء الحق کہہ میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب وزهق الباطل إن الباطل سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔کہہ حق آیا اور باطل كان زهوقا۔كل بركة بھاگ گیا اور باطل بھاگنے والا ہی تھا۔ہر ایک فَتَبَارَكَ من محمد صلى الله علیه برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔ارَكَ مَن علم پس بڑا مبارک وہ ہے جس نے تعلیم دی اور جس 19 وتعلم۔وقل إن افتريته نے تعلیم پائی اور کہہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو فعلى إجرامي ويمكرون میری گردن پر میرا گناہ ہے۔وہ لوگ بھی ویمگر الله والله خیر تدبیریں کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیر کر رہا بقية الحاشية أوحى إلى الحواريين بقیہ حاشیہ - حواریوں کی طرف وحی کی اور ذوالقرنین و كلم ذا القرنين و أخبرنا به فی سے کلام کیا۔اور اس کے متعلق اس نے اپنی کتاب كتابه ثم بشّر لنا وقال : تله میں ہمیں خبر دی پھر ہمیں بشارت دی اور فرمایا۔مِنَ الْأَوَّلِينَ وَتُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِيْنَ يَا وفـي هـذه الآية أشار إلى أن هذه اور اس آیت میں اس نے یہ اشارہ فرمایا کہ جس طرح الأمة يُكلَّم كما كُلّمت الأمم من پہلی امتوں سے کلام کیا گیا اسی طرح اس امت سے قبل فمن كان له صدق رغبة فی بھی کلام کیا جائے گا۔پس جس شخص کو قرآن سے الاتعاظ بالقرآن فلا يتردد بعد بيان نصیحت حاصل کرنے کے لئے سچی رغبت ہو گی۔تو كتاب الله ولا يكون من المرتابين اسے اللہ کی کتاب (قرآن) کی وضاحت کے بعد ومن لم يبال امتثال أوامره وانتهاء کوئی تردد نہ ہوگا اور نہ وہ شک کرنے والوں میں سے نواهيه فما آمن به و ما كان من ہوگا۔جو شخص قرآن کے اوامر کی بجا آوری اور اس کی لے پہلوں میں سے ایک بڑی جماعت ہے اور پچھلوں میں سے بھی ایک بڑی جماعت ہے ( الواقعة : ۴۱،۴۰) ۴۷