توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 71 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 71

توہین رسالت کی سزا :4 ابو عفك ( 71 ) قتل نہیں ہے مدعیان قتل شاتم نے ابو عنگ کے قتل کا واقعہ بھی اپنی دلیل کے طور پر درج کیا ہیں۔عصماء کے واقعے کی طرح اسے بھی واقدی اور بعض دوسرے مورخین نے جنگ بدر کے بعد کے واقعات میں تحریر کیا ہے۔اس واقعہ کا بھی کتب حدیث اور صحیح تاریخی روایات میں نشان نہیں ملتا۔اور درایت کے لحاظ سے بھی یہ واقعہ درست ثابت نہیں ہوتا۔اس فرضی واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک بوڑھا یہودی ابو عفک نامی مدینہ میں رہتا تھا۔یہ بھی آنحضرت صلی للہ الم کے خلاف اشتعال انگیز شعر کہتا تھا۔کفار کو آپ کے خلاف جنگ کرنے اور آپ کو قتل کر دینے کے لئے ابھارتا تھا۔آخر اُسے بھی ایک دن ایک صحابی سالم بن عمیر نے رات کے وقت اُس کے صحن میں قتل کر دیا۔(ابن سعد ، سریہ عمیر بن عدی و ابن ہشام ، غزوة عمير بن عدى الخطمي تقتل عصماء بنت مردان) اور ابن ہشام اور واقدی نے اس کے بھی وہ اشتعال انگیز اشعار تحریر کئے ہیں جو اس نے آنحضرت مصلی یکم کے خلاف کہے تھے۔(ابن ہشام ، سریہ سالم ابن عمير لقتل ابي عفک و کتاب المغازی للواقدی، ذکر سر یہ قتل عصماء بنت مروان وذکر سریعہ قتل ابی عنک) اس واقعے کو بھی مستشرقین نے حسب معمول نہایت ناگوار صورت میں اپنی کتابوں کی زینت بنایا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جرح اور تنقید کے سامنے یہ واقعہ بھی عصماء کے واقعے کی طرح درست ثابت نہیں ہو تا۔پہلی بات جو اس کے وضعی ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے ، یہ ہے کہ کتب احادیث میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا۔یعنی کسی حدیث میں قاتل یا مقتول کا نام لے کر اس قسم کا کوئی واقعہ بیان نہیں کیا گیا۔لہذا ابو عفک کے واقعے کو کسی طور پر بھی حدیث قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس واقعہ کا تو یہ حال ہے کہ بعض مورخین نے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔حالانکہ اگر یہ واقعہ