توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 62
توہین رسالت کی سزا ( 62 } قتل نہیں ہے نہیں کی۔اُس نے بالآخر مجد کے قبائل غطفان اور دوسرے قبیلوں کا پھر بھر پور دورہ کر کے انہیں مسلمانوں کے تباہ کرنے کے لئے جنگ احزاب کی طرح ایک لشکر عظیم کی صورت میں جمع کرنا شروع کر دیا۔( ابن سعد جلد 2 صفحہ 66) جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے پھر وہی احزاب والے منظر پھرنے لگ گئے تو آنحضرت صلی اللہ علم کی خدمت میں قبیلہ خزرج کے بعض انصاری حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اب اس فتنے کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کسی طرح اس فتنے کے بانی مبانی ابو رافع کا خاتمہ کر دیا جائے۔( ابن ہشام ، مقتل سلام بن ابی الحقیق) آپ نے اس بات کو سوچتے ہوئے کہ ملک میں وسیع کشت و خون کی بجائے ایک مفسد اور فتنہ انگیز آدمی کا مارا جانا بہت بہتر ہے ، ان انصار کو اجازت مرحمت فرمائی۔آپ نے عبد اللہ بن عتیک انصاری کی سرداری میں چار خزرجی انصار کو ابو رافع کی طرف روانہ فرمایا۔مگر چلتے ہوئے تاکید فرمائی کہ کسی عورت یا بچے کو ہر گز قتل نہیں کرنا۔( موکا کتاب الجہاد باب النهي عن قتل النساء والولد ان في الغزو) چنانچہ 6 ھ کے ماہ رمضان میں یہ پارٹی روانہ ہوئی (ابن ہشام ، مقتل سلام بن ابی الحقیق ، ابن سعد) اور نہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنا کام کر کے واپس آگئی۔اس طرح ایک جانب سے اس مصیبت کے بادل مدینے کی فضا سے ٹل گئے۔اس واقعے کی تفصیل صحیح بخاری میں ، جو اس معاملے میں صحیح ترین روایت ہے ، مندرجہ ذیل صورت میں بیان ہوئی ہے: براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی یکم نے اپنے صحابہ کی ایک پارٹی ابورافع یہودی کی طرف روانہ فرمائی اور اُن پر عبد اللہ بن عتیک انصاری کو امیر مقرر فرمایا۔ابو رافع کا قصہ یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی یک کم کو بہت دُکھ دیا کرتا تھا اور آپ کے خلاف لوگوں کو اُبھارتا تھا اور اُن کی مدد کیا کرتا تھا۔عبد اللہ بن عتیک اور اُن کے ساتھی ابو رافع کے قلعے کے قریب پہنچے۔جب سورج غروب ہو گیا تو عبد اللہ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑا اور خود قلعے کے