توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 61
توہین رسالت کی سزا :2 ابورافع { 61 } قتل نہیں ہے ابو رافع کا واقعہ بھی قتل شاتم کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اس کا اصل نام سلام بن ابی الحقیق تھا۔اپنی کنیت کی وجہ سے ابورافع کہلاتا تھا۔وہ ایک بہت بڑا تاجر اور دولتمند یہودی رئیس تھا۔اس کے قتل کو بھی توہین رسالت کی سزا قرار دیا جاتا ہے۔اس کے قتل کی تفصیل اور پس منظر یہ ہے کہ جن یہودی رؤساء کی مفسدانہ انگیخت اور اشتعال انگیزی سے 5 ھ کے آخر میں مسلمانوں کے خلاف جنگ احزاب کا خطر ناک فتنہ برپا ہوا تھا۔ان یہودی سرداروں میں سے ایک سردار حیی بن اخطب تو بنو قریظہ کے ساتھ اپنے کیفر کردار کو پہنچ چکا تھا۔لیکن ابو رافع خیبر کے علاقے میں اپنی فتنہ خیزی میں مصروف تھا۔بلکہ جنگ احزاب میں ذلت بھری ناکامی اور پھر بنو قریظہ کے بد انجام نے اُس کی عداوت کو اور بھی بھڑ کا دیا تھا۔چونکہ قبائل غطفان کا مسکن نجد ایک جانب سے خیبر کے قریب تھا اور خیبر کے یہود اور نجد کے غطفانی قبائل آپس میں ہمسائے تھے ، اس لئے اب ابو رافع نے مسجد کے ان جنگجو قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کا دستور العمل بنالیا تھا۔گویا رسول اللہ صلی الم کی عداوت میں وہ کعب بن اشرف کا پورا پورا مثیل تھا۔(ابن ہشام ، مقتل سلام بن ابی الحقیق ) اس کی عداوت کی آگ مسلمانوں کے خون کی پیاسی تھی اور آنحضرت صلی للی کم کا وجود اُس کی آنکھوں میں مثل خار تھا۔چنانچہ اس نے غطفانیوں کو آپ کے خلاف حملہ آور ہونے کے لئے کثیر اموال پیش کئے تھے۔(فتح الباری، کتاب المغازی باب قتل ابی رافع عبد اللہ بن ابی الحقیق) تاریخ سے ثابت ہے کہ ماہ شعبان 6 ھ میں قبیلہ بنو سعد کی طرف سے جو خطرہ مسلمانوں کو پیدا ہوا تھا اور اس کے سدِ باب کے لئے حضرت علی کی کمان میں ایک فوجی دستہ مدینے سے روانہ کیا گیا تھا اُس کی پشت پر بھی خیبر کے یہود تھے۔ابن سعد جلد 2 صفحہ 56) وہ ابو رافع کی قیادت میں یہ شرارتیں کر رہے تھے۔ابو رافع نے اسی پر بس