توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 41 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 41

توہین رسالت کی سزا √( 41 }- محل نہیں ہے ترجمہ: پس ( اُن سے ) عفو سے کام لو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ ظاہر کر دے۔یقینا اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔ہمارا ایمان ہے بلکہ ہر سچے مسلمان کا ایمان ہے کہ رسول اللہ صل ال ہم نے قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کو اپنے جوارح، اپنے اعمال، اپنے اقوال، اپنے دل اور اپنی روح پر جاری فرمایا۔چنانچہ حضرت عائشہ نے تو یہ گواہی مہیا فرمائی تھی کہ آپ کا خُلق قرآن پر استوار تھا۔مگر حضرت انس بن مالک آپ کی زندگی کے آخری لمحات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میں نے آپ کے چہرے کو دیکھا تو وہ گویا قرآن کا ایک ورق تھا۔(ابن سعد ذکر امر رسول الله أبا بكر أن يصلي بالناس فی مرضم و ابن کثیر ) یہ پاک، رحیم و کریم ، عفو و رؤف ذات تھی، جس نے اپنے رب میں جذب ہو کر اس کے ایک ایک حکم، ایک ایک تعلیم اور ایک ایک اشارے کی پورے کمال اور حسن و خوبی کے ساتھ تعمیل کی۔اس نے انہی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ہر قسم کے گالی گلوچ، بد زبان بد گو ملزم یا مجرم کو معاف کیا۔کسی کو قتل کی سزا نہیں دی۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍوَ بَارِكْ وَ سَلِّمْ أَنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ *****