توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 324 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 324

توہین رسالت کی سزا { 324 ) قتل نہیں ہے ان کے علاوہ اس کی سرکردگی میں روز مرہ بار بار آنحضرت علی کم، ازواج مطہرات اور دیگر صحابہ کی توہین کی کوشش کی جاتی رہی۔یه شخص، منافقوں کا سرغنہ بالآخر ماہ شوال میں بیمار ہوا اور بیس دن بیمار رہنے کے بعد ذوالقعدہ کے مہینے میں تاریخ عالم میں منافقت کی سب سے بڑی داستان چھوڑ کر راہی ملک عدم ہو گیا۔اس کی علالت کے دوران رحمتہ للعالمین صلی ال یکم اس کی عیادت کو تشریف لے جاتے رہے۔جس دن اس کی موت ہوئی، آپ اس کے پاس گئے اور اس سے اس کی سازشوں کی بابت بات کی تو اس نے عرض کی:” یارسول اللہ ! یہ میری موت کا وقت ہے، عتاب کا نہیں۔مجھے اپنی یہ قمیص عطا فرمائیں جو آپ نے پہن رکھی ہے اور اسی میں میری تکفین فرمائیں۔میری نماز جنازہ بھی آپ پڑھائیں اور میرے لئے دعائے مغفرت بھی کریں۔66 اس کی موت واقع ہوئی تو اس کا بیٹا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ آپ اپنا کرتہ عنایت فرمائیں تا کہ اسے آپ کے کرتے کا کفن پہنایا جائے۔آپ نے اسے اپنا کرتہ عطا کیا۔چنانچہ عبد اللہ بن ابی کو کفن میں آنحضرت صلی اللہ ظلم کی قمیص پہنائی گئی۔عبد اللہ بن ابی کی میت تیار ہوئی تو آنحضرت صلی للی کم کو اطلاع کی گئی۔آپ نماز جنازہ کے لئے تشریف لے جانے لگے تو حضرت عمر نے آپ کی خدمت میں اس کی ساری کرتوتوں کا ذکر کر کے عرض کی : ”آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے جو منافق ہے۔ایسے لوگوں کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔“ آپ ” مسکرائے اور فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا ہے : "اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ (التوبه :80) کہ تُو ان کے لئے مغفرت طلب کر یا تو ان کے لئے مغفرت نہ طلب کر۔اگر تو ان کے لئے ستر مرتبہ بھی