توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 302
توہین رسالت کی سزا 302} قتل نہیں ہے جہانتک ذمی کی بحث کا تعلق ہے تو امام اعظم نے اس سے یہ بھی انتہائی واضح اصول وضع فرمایا ہے کہ ذمی کے گالی دینے سے اس کا عہد نہیں ٹوٹتا۔جب عہد نہیں ٹوٹتا تو پھر اس وجہ سے بھی اس کے قتل کا جواز بھی کالعدم ہو جاتا ہے۔حضرت امام مالک: عون المعبود في شرح ابی داؤد کتاب الحدود باب الحلم فيمن سب رسول اللہ صلی ال یکم میں روایت کی شرح میں حضرت امام مالک کا قول بھی درج کیا گیا ہے کہ سب و شتم کرنے والا یہودی و عیسائی قتل کیا جائے گا سوائے اس کے کہ وہ مسلمان ہو جائے۔( یعنی اسے مہلت دی جائے گی کہ وہ مسلمان ہو جائے) چنانچہ حضرت امام مالک کی طرف منسوب ایک روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ قاضی عیاض بیان کرتے ہیں کہ ہارون رشید نے حضرت امام مالک سے یہ مسئلہ پوچھا کہ جو شخص رسالت مآب صلی لی ہم کو برا کہے اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ بعض علماء اس کے لئے کوڑے تجویز کرتے ہیں۔امام مالک نہایت غصے میں آگئے اور فرمایا کہ امت کے نبی صلی ال نام کے خلیفہ وقت ! امت کے نبی صلی اللہ ہم کو گالی دی جائے اور امت اسے ختم نہ کرے تو کیا ایسی امت زندہ رہ سکتی ہے ؟ جو شخص کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کیا جائے۔حضرت امام مالک کا زمانہ 93ھ سے 179ھ تک ہے اور مسلمان بادشاہ خلیفہ ہارون الرشید کا زمانہ 170ھ سے 193ھ تک کا ہے۔یعنی حضرت امام مالک نے ہارون الرشید کی خلافت کے نو دس سال دیکھے ہیں۔