توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 301 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 301

توہین رسالت کی سزا { 301 ) قتل نہیں ہے قاضی عیاض نے بھی یہ لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام سفیان ثوری اور اہل کوفہ میں سے ان کے متبعین رسول اللہ صلی الی ظلم کے شاتم کے قتل کے قائل نہ تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں: فَأَمَّا الذِي إِذَا صَرَّحَ بِسَبِّهِ أَوْ عَرَّضَ ، أَوِ اسْتَخَفَّ بِقَدَرِهِ، أَوْ وَصَفَهُ بِغَيْرِ الْوَجْهِ الَّذِي كَفَرَ بِهِ فَلَا خِلَافَ عِنْدَنَا فِي قَتْلِهِ اِنْ لَّمْ يُسْلِمُ ، إِنَّا لَمْ نُعْطِهِ الدِّمَّةَ وَالْعَهْدَ عَلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ الْعُلَمَاءِ ، إِلَّا اَبَا حَنِيفَةَ وَالثَّوْرِى وَاِتِّبَاعَهُمَا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، فَإِنَّهُمْ قَالُوا، لَا يُقْتَلُ مَا هُوَ عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ أَعْظَمُ ، وَلكِنْ يُوَذَبُ وَيُعَزِّرُ “ ( الشفاء صفحہ 821،822) کہ جہانتک ذمی کا معاملہ ہے ، جب وہ واضح طور پر آنحضرت صلی اللہ ملک کو گالی دے یا تعریض سے کام لے یا آپ کی شان میں تخفیف کرے یا آپ کے وصف میں وہ بات کہے جس سے آپ انکار کرتے ہیں۔تو اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتا تو اس کے قتل کے بارے میں ہمارے ہاں کوئی اختلاف نہیں ہے۔کیونکہ ہم نے اس بات کے بارے میں اس کی نہ ذمہ داری لی ہے ، نہ اس سے کوئی عہد باندھا ہے۔یہ علماء کا قول ہے سوائے ابو حنیفہ اور ثوری کے اور کوفے میں ان کے متبعین کے۔وہ کہتے ہیں کہ قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کا شرک اس سے زیادہ بڑا (جرم) ہے۔مگر اسے تادیب اور تعزیر کی جائے گی۔یعنی مسلم اور ذقی کی بحث تو ایک جزوی بات ہے۔امام اعظم نے نفس مضمون میں شرک اصل پیمانہ رکھا ہے۔یعنی شرک کا ارتکاب خواہ مسلمان کرے یا کوئی کافر ، وہ سب و شتم سے بہر حال بڑا گناہ ہے۔لہذا اگر اس کی سزا قتل نہیں رکھی گئی تو پھر شتم رسول صلی ظلم کی سزا بہر حال قتل نہیں ہو سکتی۔