توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 293
توہین رسالت کی سزا 293 | قتل نہیں ہے وغیرہ وغیرہ امور ندارد ہیں۔اس لئے محض ان کے ذکر کو اجماع قرار دینا شرعی لحاظ سے ہر گز درست نہیں ہے۔بلکہ یہ تو امت پر ایک ظالمانہ دھونس جمانے کی جسارت ہے۔علاوہ ازیں ان کتب میں اس مسئلے پر تمام مکاتیب فکر یا تمام مسالک کے علماء کے اجماع کا دعوی محض ایک دعوی ہے جو باوجو د شدید کوشش کے ثابت نہیں ہو تا۔کیونکہ اجماع کے اس دعوے میں جگہ جگہ نمایاں نظر آتی ہوئی بڑی بڑی مفارق دراڑیں اور بڑے بڑے اختلافی شگاف ہیں جو بذات خود منادی کر رہے ہیں کہ اس مسئلے پر اجماع کا یہ دعوی جھوٹا ہے۔یہ دراڑیں اور شگاف جزوی پہلوؤں میں بھی ہیں اور کئی پہلوؤں میں بھی۔جزوی لحاظ سے مثلاً یہ لکھا جاتا ہے کہ مسلمان گالی دے تو قتل کیا جائے اور ذمی دے تو اسے قتل نہ کیا جائے، عورت ہو تو اسے قتل نہ کیا جائے، خواہ وہ مسلمان ہو یا ذمی وغیرہ وغیرہ۔۔کلی لحاظ سے یہ کہ امام ابو حنیفہ نے واضح طور پر شرک کو گالی سے بڑا جرم قرار دیا ہے۔یعنی بتایا ہے کہ اگر شرک موجب قتل نہیں ہے تو گالی کی سزا قتل کیسے ہو سکتی ہے۔امام احمد بن حنبل نے بھی ایک حدیث پیش کر کے اپنا موقف پیش کر دیا ہے کہ رسول اللہ صلی لی ایم کے نشان کردہ تین جرموں کے علاوہ کسی اور جرم کی سزا قتل نہیں ہے۔نیز یہ بھی کہ گستاخی کرنے والے کو قتل کی سزا دینے کا اختیار بھی رسول اللہ صلی اللہ نام کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہے۔یہ ساری بحثیں انہی کتابوں میں مذکور ہیں جو از خود اندرونی شہادتوں ہی سے ایسے نام نہاد اجماع کا تار وپود بکھیر رہی ہیں۔گزشتہ صفحات میں ان تمام روایات کے بارے میں ٹھوس دلائل اور قطعی ثبوت مہیا کئے گئے تھے اور ثابت کیا گیا تھا کہ یا تو وہ خود قابل استناد نہیں ہیں، یا ان سے جو استدلالات کئے گئے ہیں وہ بوجوہ و دلائل قابل ردّ ہیں۔ایسی کمزور ، ضعیف، جعلی اور وضعی روایات یا غلط