توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 270 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 270

توہین رسالت کی سزا { 270} قتل نہیں ہے سزا دی جاتی تو اس سے عظیم فتنہ و فساد کا اندیشہ تھا جو اُن کے اذیت والے کلمات پر صبر کرنے سے بھی عظیم تر ہوتا۔جب مکہ فتح ہوا تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے تو سورۃ التوبہ کی آیت نازل ہوئی : ”کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کر۔“ نیز فرمایا: ”اگر منافق اور وہ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے اور جو ( مدینہ شہر میں بری خبریں اڑایا کرتے ہیں (اپنے کر دار ) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے۔پھر وہ تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن، وہ بھی پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے۔“ ا: الصارم۔۔۔۔۔۔کی اس عبارت میں حسب ذیل بنیادی غلطیاں موجود ہیں۔پہلی آیت وَلا تُطِيع۔۔۔۔۔سورۃ الاحزاب کی ہے۔سورۃ الاحزاب مدنی سورۃ ہے جس کا نزول 5 ھ میں شروع ہوا۔اس میں کوئی آیت ملنے کی حالت پر چسپاں نہیں ہو سکتی۔کیونکہ متے کے حالات پہلے تھے۔ان کے لئے تعلیم اس وقت ہی نازل ہونی چاہئے تھی۔رسول اللہ صلی ال یکم اور آپ کے صحابہ کی وہاں سے ہجرت کی وجہ سے جب وہ صور تحال نہ رہی، وہ جبر و تشدد ختم ہو گیا اور وہ دور گزر گیا تو اس کے بعد اس کے لئے حکم کے نزول کی ضرورت ہی کوئی نہ تھی۔ستے میں منافقین نہیں تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى النِّفَاقِ (سورۃ التوبہ :101) کہ تمہارے اردگرد ۲ بدویوں میں منافق ہیں یا اہل مدینہ میں ہیں جو نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں۔