توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 242
توہین رسالت کی سزا { 242 } قتل نہیں ہے بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عفو کا حکم ہے۔پس میں تمہیں لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔آنحضرت صلی الہ وسلم کا یہ کلام ایک غیر معمولی غالب عظمت کا کلام ہے۔ایک طرف آپ اور آپ کے صحابہ کفار کے تمام ظلم و جبر برداشت کرتے چلے جارہے ہیں۔جس سے بادی النظر میں یہی دکھائی دیتا ہے کہ انتہائی کمزوری کی حالت ہے، مگر دوسری طرف یہ فرماتے ہیں کہ عفو کا حکم ہے۔یعنی معاف کرنے کا حکم ہے۔یعنی آپ ایسی حالت میں ہیں کہ ان سب مخالفوں سے طاقتور اور ان پر غالب ہیں اور وہ آپ کے ہی رحم و کرم پر ہیں۔معاف کرنے کی صلاحیت ہمیشہ طاقتور میں ہوتی ہے۔کمزور ، شکست خوردہ اور ہارے ہوئے انسان کی دی ہوئی معافی اور عفو کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ؟ پس رسول اللہ صلی الم کا یہ ارشاد کہ ”مجھے عفو کا حکم ہے، لہذا تمہیں مقابلے میں بھی لڑنے کی اجازت نہیں ہے ، ایک عظیم الشان واقعاتی حقیقت کا آئینہ دار ہے۔وہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی یم کے ساتھ تمامتر طاقتوں کے مالک واحد ویگانہ خدا کی طاقت تھی۔اس کے فرشتوں کی فوجیں تھیں جو انفرادی طور بھی آپ کے ہر دشمن کے لئے اور بحیثیت مجموعی بھی وہ آپ کے تمام دشمنوں کے لئے کافی تھیں۔آپ کے دشمنوں کی تباہی و بربادی صرف اور صرف آپ کے ایک اشارہ ابرو کی منتظر تھی۔یہ محض کوئی دعوی نہیں ہے بلکہ واقعات و شواہد سے تائید یافتہ ایسی ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی ال یکم انسانیت کی اور انسان کے خون کی حفاظت کرنے والا اور ان کی ربوبیت کے لئے تڑپنے والا دل رکھتے تھے۔آپ ان کی ہلاکت کے لئے نہیں، انہیں محفوظ کر کے اور زندگی دے کر خدائے واحد و یگانہ سے منسلک کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔چنانچہ ملاحظہ ہو کہ