توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 241
توہین رسالت کی سزا { 241 } قتل نہیں ہے اور ور قطعی طور پر بودی اور جھوٹی ہے۔ایسی ہی دلیلیں ہیں جنہیں اسلام دشمن عناصر ہاتھ لمبے کر کر کے لیتے ہیں اور انہی کو استعمال کر کے اسلام پر حملہ آور ہوتے ہیں۔پھر اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ رسول اللہ صل اللہ یا تو ہر دوسری طاقت سے ہر زمانے میں طاقتور اور غالب تھے۔اگر کمزوری کی وجہ سے ہی کسی کو قتل نہیں کیا گیا تو فتح مکہ کے وقت تو کمزوری کوئی نہیں تھی۔اس وقت صرف چند ایک کے سوا باقی سب شا تموں، توہین کے مر تکلبوں، ہرزہ سراؤں، ظالموں، قاتلوں اور جابروں کو بیک جنبش زبان معاف کر دیا گیا۔اصول تو بہر حال اصول ہوتا ہے۔اگر اصول یہ ہے کہ شاتم کو ہر حال میں قتل کرنا ہے تو سوال یہ ہے کہ یہ اصول یہاں کیوں ترک کیا گیا ؟ دنیا کا سب سے طاقتور انسان ، محمد رسول الله صلى الله ولم جیسا کہ ہم نے ابھی اوپر لکھا ہے کہ نہ اسلام کسی وقت بے طاقت تھا، نہ نعوذ باللہ رسول اله صلى ال ہم کسی پہلو سے کبھی کمزور تھے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسے دنیا کی کوئی دلیل، کوئی منطق اور کوئی طاقت رڈ نہیں کر سکتی۔چنانچہ اس سلسلے میں حسب ذیل حقائق ملاحظہ ہوں۔ا : عفو کا حکم جب کتنے میں اسلام کی مخالفت اور آنحضرت صلی للی کم اور آپ کے صحابہ پر ظلم و جبر انتہائی شدت اختیار کر گیا تو ایک موقعے پر حضرت عبد الرحمن بن عوف چند اور صحابہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ” یارسول اللہ ! ہم مشرک تھے تو ہم معزز تھے۔کوئی ہماری جانب آنکھ نہ اٹھا سکتا تھا۔لیکن جب سے ہم مسلمان ہوئے ہیں کمزور اور ناتواں ہو گئے ہیں۔ہمیں ذلت کے ساتھ کفار کے مظالم سہنے پڑتے ہیں۔پس یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم ظلم کرنے والے کفار کا مقابلہ کر سکیں۔“ آپ نے جواباً فرمایا: ” اُمِرْتُ