توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 237 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 237

توہین رسالت کی سزا { 237 ) قتل نہیں ہے بعض کتب تاریخ نے یہ نام مرد اس بن نہیک بیان کیا ہے ) اپنی بکریاں لے کر ایک پہاڑی پر چڑھتا نظر آیا۔انہوں نے اسے جالیا اور جب اسے مارنے لگے تو اس نے جھٹ سے کلمہ طیبہ پڑھ لیا۔یعنی اپنی زبان سے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کر لیا۔یہ سن کر وہ انصاری تو پیچھے ہٹ گئے مگر حضرت اسامہ نے اس پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا اور اس کی بکریاں قبضے میں کر لیں۔انہوں نے مدینے پہنچ کر جب آنحضرت صلی علی کم کو اس واقعے کی تفصیل بتائی تو آپ کا دل افسوس سے چھلک گیا۔حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا: " مَنْ لَّكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقَيَامَةِ؟ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السَّلَامِ قَالَ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَالَهَا أَمْ لَا مَنْ لَّكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسلِمُ إِلَّا يَوْمَين (ابوداؤ دکتاب الجہاد باب على ما يقاتل المشركين و زرقانی ذکر خمس سر ا یا قبل مونته ) ترجمہ: ”اے اسامہ ! قیامت کے روز لا اله الا اللہ کے مقابل پر تیر اکون مددگار ہو گا ؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہ ! ”اس نے تو تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا۔“ آپ نے (غم سے بھر کر فرمایا: ” تو نے اس کا دل کیوں نہ چیر دیکھا کہ تجھے علم ہو جاتا کہ اس نے تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا یا اس کے بغیر۔قیامت کے روز لا الله الا اللہ کے مقابل پر تیرا کون مدد گار ہو گا ؟“ اسامہ کہتے ہیں: "آنحضرت صلی علی کرم یہ دوہراتے جاتے تھے یہانتک کہ میں نے یہ خواہش کی کہ کاش میں اس روز تک مسلمان ہی نہ ہو ا ہو تا۔“ اس واقعے میں ایک غیر معمولی تاکید کا منظر ہے جو یہ خوبصورت اور دائمی تعلیم پیش کرتا ہے کہ اگر کوئی اپنے مسلمان ہونے کا جہراً اقرار کرے تو رسول اللہ صلی ا ہم نے کسی کو اسے رو کرنے کا حق نہیں دیا۔اسے تسلیم کرنا ضروری ہے خواہ وہ یہ اعلان کیسے ہی حالات میں کر رہا ہو۔