توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 236
توہین رسالت کی سزا 236 | قتل نہیں ہے اور امت سے کشت و خون کی روک تھام کے لئے ایک انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ آپ نے مدینے میں مردم شماری کے وقت ہر اس شخص کو مسلمان شمار فرمایا جو اپنی زبان سے صرف یہ اظہار کر تا تھا کہ وہ مسلمان ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا: اكتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ “ (بخاری کتاب الجہاد باب کتابۃ الامام الناس۔مسلم کتاب الایمان باب الاستسر ار بالا یمان لخائف) کہ میرے لئے ہر اس شخص کا نام لکھ دو جو اپنے منہ سے مسلمان ہونے کا اظہار کرتا ہے۔پھر آپ نے ہر اس شخص کو مسلمان شمار فرمایا مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيْحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةٌ رَسُوْلِهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِه “ ( بخاری کتاب الصلاۃ باب فضل استقبال القبلۃ) کہ جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے ، ہمارے قبلے کو اپنا قبلہ قرار دے، ہمارا ذبیحہ کھائے ، وہ مسلمان ہے۔ایسے شخص کی حفاظت کرنا خدا اور اس کے رسول کے ذقے ہے۔پس تم اے مسلمانو! خدا کے ذمے کو ہر گز نہ توڑنا۔یعنی ایسی تاکید فرمائی کہ ان صفات یا اعمال والا شخص ایسا مستند مسلمان ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (صلی للی ) اس کی اور اس کے اسلام کی ضمانت دیتا ہے۔لہذا اس کی حفاظت ہر مسلمان پر فرض ہے۔علاوہ ازیں ایک واقعہ ایسا بھی ظہور میں آیا جو رسول اللہ صلی علیم کے اس جواب سے بالکل مشابہ تھا جو آپ نے ذوالخویصرہ کے بارے میں حضرت خالد بن ولید کو ارشاد فرمایا تھا۔چنانچہ وہ واقعہ 7ھ کا ہے۔جب میفعہ کے سریے میں کفار شکست کھا کر بھاگ گئے تو حضرت اسامہ بن زید اور آپ کے ایک انصاری ساتھی کو میفعہ کا ایک شخص نہیک بن مرداس