توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 202 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 202

توہین رسالت کی سزا { 202 ) قتل نہیں ہے اگر بات صرف ہجو کی تھی تو یہ عام فہم بات ہے کہ کعب کو محض اشعار میں آنحضرت صلی ایلم کی ہجو کرنے کے لئے دو سو میل سے زائد سفر کر کے مکے جانے کی تو ضرورت ہی کوئی نہیں تھی۔صرف لفظی یا لسانی ایذاء دہی کے لئے طویل سفر کی اتنی مشقت اٹھانا، کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔کیونکہ یہ کام تو مدینے میں بھی ہو سکتا تھا۔خاص طور پر جبکہ رسول اللہ صلی ام مدینے میں تھے تو ہجو بھی مدینے میں ہی موکثر تھی، نہ کہ سینکڑوں میل دور اور وہ بھی ان لوگوں کے پاس جا کر جو پہلے سے ہی آپ کے دشمن تھے اور آپ کے خلاف ایک دوسرے سے بڑھ کر ہجو گو تھے اور وہ تعداد میں بھی کثرت سے تھے۔اصل بات وہی تھی جس پر 'الصارم میں پر وہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ در حقیقت ایک بڑی سازش کا تانا بانا بننے کے لئے کتے گیا تھا۔اس کا مقصد قریش مکہ اور دیگر قبائل کو رسول اللہ صلی ال ظلم کے خلاف جنگ پر اکسانا اور آپ کے قتل پر آمادہ کرنا تھا۔یہی تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت بھی ہے۔نشینہ سیہودی کا قتل: ”جس یہودی پر تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو۔“ (الصارم زیر عنوان، بین محمد بن مسلمۃ و ابن یامین عند معاویہ صفحہ :86) کعب بن اشرف کے واقعے کے ذکر کے بعد ابن ہشام نے یہ روایت نقل کی ہے کہ کعب کے قتل کے بعد آنحضرت صلی العلیم نے صحابہ سے یہ ارشاد فرمایا تھا: ”مَنْ ظَفِرْتُمْ بِهِ مِنْ رِجَالِ يَهُودَ فَاقْتُلُوهُ " کہ اب جس یہودی پر تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو۔چنانچہ مُخیصہ نامی ایک صحابی نے ایک یہودی پر حملہ کر کے قتل کر دیا تھا۔یہ روایت ابو داؤد ( سنن ابی داؤ د کتاب الخراج ) نے بھی درج کی ہے اور ان دونوں روایتوں کا منبع ابن اسحاق ہے۔