توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 201
توہین رسالت کی سزا 201 } قتل نہیں ہے جرم صرف یہ تھا کہ وہ لسانی ایڈا کا موجب ہوا تھا۔۔۔اس نے کوئی ایسا کام نہ کیا تھا جس کا تعلق حرب و پیکار سے ہو۔پھر مکرر لکھا ہے کہ کعب بن اشرف سے صرف ایذاء باللسان کا جرم صادر ہوا تھا۔اس سے مطلب یہ ہے کہ مشرکین کو جنگ و حرب کے لئے ابھار نا زبان سے تھا۔عملاً اس نے لڑائی وغیرہ کا کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔کتاب الصارم۔۔۔۔۔میں قریش مکہ کو رسول اللہ صلی اللی نیلم کے خلاف جنگ کے لئے انگیخت کرنے کی صحیح روایات اور اور مستند تاریخی حقائق کو گوایسی باتوں کے ذریعے چھپانے کی حتی الامکان کوشش کی گئی ہے مگر پھر بھی یہ حقیقت بیان ہو ہی گئی ہے کہ وہ کفار کو ابھارتا تھا۔کعب کے جرموں کی فہرست میں لکھا ہے۔” وَ حَضَهُمْ عَلَى مَحَارَبَةِ النَّبِيِّ عَل وَالله وَ وَاطَأَهُمْ عَلَى ذلك “ (الصارم المسلول : 60 ) کہ وہ ان ( قریش مکہ) کو نبی کریم اسے جنگ کے لئے ابھارتا تھا اور ان دو 669 کی پشت پناہی کرتا تھا۔اگلے صفحہ پر پھر ” تَحْضِیضُہ بھی لکھا ہے۔یعنی اس کا (آنحضرت صلى ال علم کے خلاف جنگ کے لئے ابھارنا۔اس پہلو سے کتاب کے اندر ہی نفس مضمون کے لحاظ سے ایک واضح ابہام ، الجھاؤ کے ساتھ تضاد بھی پایا جاتا ہے۔اول تو یہ کہ محاربت کے لئے انگیخت کرنا کوئی گالی گلوچ یا لسانی ایذاء دہی نہیں ہے بلکہ باقاعدہ اعلان جنگ ہے۔دوسرے یہ کہ کسی کو جنگ کے لئے اکسانا یا جنگ کے لئے سازش تیار کرنا، زبان ہی کے کام ہیں۔سازشیں زبانوں سے ہی بیان ہوتی اور پروان چڑھتی ہیں۔پھر جن کی بنیاد پر باقاعدہ لڑائیاں اور جنگیں ہوتی ہیں۔قوانین دنیا میں ایسی کارروائیاں عملاً جنگ میں اترنا اور اس کا کھلا کھلا اعلان قرار پاتی ہیں۔قطع نظر اس کے کہ وہ اشعار میں ہو یا نثر میں، ایسی کارروائی ہر پہلو سے محاربت ہی کہلاتی ہے۔خصوصاً اُس زمانے میں آج کی طرح تو لکھت پڑھت نہیں تھی۔اس زمانے میں تو سب کچھ زبان سے یعنی نظم یا نثر میں ہی ہو تا تھا۔