توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 188 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 188

توہین رسالت کی سزا 66 188 - قتل نہیں ہے وَرَهْبَانِيَّتِهِمْ، جَوَارُ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ لا يُغَيَّرُ أَسْقُفُ عَنْ أَسْقُفِيَّتِهِ، وَلَا رَاهِبٌ مِنْ رَهْبَانِيَّتِهِ، وَلَا كَاهِنَّ عَنْ كَهَانَتِهِ، وَلَا يُغَيَّرُ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِهِمْ لَا سُلْطَانِهِمْ وَلَا شَيءٍ مِمَّا كَانُوْا عَلَيْهِ (مِنْ ذلِكَ، جَوَادُ اللهِ وَ رَسُولِهِ أَبَداً مَا نَصَحُوْا وَأَصْلَحُوْا فِيْمَا عَلَيْهِمْ غَيْرَ مُثْقِلِينَ بِظُلْمٍ وَلَا ظالِمِينَ۔( ابن سعد ذکر و فادات وفد نجران) ترجمہ: محمد نبی صلی یم کی طرف سے اسقف ابو حارث کے لئے اور نجران کے دیگر پادریوں، کاہنوں اور ان کے پیروکاروں اور راہبوں اور ان کے تھوڑے بہت متبعین کے لئے اور ان کے گرجوں، عبادت گاہوں وغیرہ کے لئے امان ہے۔ان کے پادریوں میں سے کسی کو اس کے منصب سے ، ان کے راہبوں میں سے کسی راہب کو اس کی رہبانیت سے اور ان کے کاہنوں میں سے کسی کاہن کو اس کی کہانت سے ہر گز بر طرف نہیں کیا جائے گا۔انہیں ان کے حقوق اور ان کے اختیارات سے جن پر وہ قائم ہیں ، ہٹایا نہیں جائے گا۔جب تک وہ خیر خواہ اور صلح جو ر ہیں گے یا ظالموں کے ساتھ ظلم ڈھانے والے نہ ہوں گے ، انہیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی پناہ حاصل رہے گی۔اس خط کے مندرجات، طبقات ابن سعد باب ذکر بعث رسول اللہ صل العلم الرسل بکتیہ الى الملوک ید عوھم الی الاسلام سے لئے گئے ہیں۔لیکن اس میں دو فقرے جو بریکٹ میں ہیں ابن کثیر کتاب الوفود وفد نجران سے بھی شامل کئے گئے ہیں تاکہ آپ کے فرمودات ایک ہی جگہ جمع ہو جائیں اور قاری اس جامع فرمان کو ایک ہی جگہ ملاحظہ کر سکے۔اس مذکورہ بالا معاہدے کو یا کسی بھی قوم و قبیلے سے کئے گئے کسی بھی معاہدے کو دیکھ لیں، اس میں آپ کو ایسی کوئی شق نہیں ملے گی جو یہ بتاتی ہو کہ رسول اللہ صلی الی یکم کو گالی دینے سے کسی معاہد یا ذمی کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ہاں خیر خواہ، صلح بجو ر ہنے اور ظالموں کا ساتھ نہ دینے کی شرائط موجود ہیں۔ان شرائط کے علاوہ تو رسول اللہ صلی الی کلیم نے گالی اور توہین و تنقیص وغیرہ کی