توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 132 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 132

توہین رسالت کی سزا 132 قتل نہیں ہے میں ڈرود فرمایا تو ابن خطل نادم ہونے یا معافی کا طلبگار ہونے کی بجائے جنگی لباس پہن کر گھوڑے پر سوار اعلان جنگ کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہوئے مقابلے کے لئے نکلا کہ وہ آپ کو سکتے میں داخل نہیں ہونے دے گا۔لیکن جب اس نے آپ کے ساتھ قدوسیوں کا ایک بڑ الشکر دیکھا تو وہ لرز کر رہ گیا اور فوراً خانہ کعبہ میں پہنچ کر اس کے پردے کی اوٹ میں چھپ گیا۔آنحضر۔صلى الم نے فرمایا: ”اسے قتل کر دیا جائے۔اِنَّ الْكَعْبَةَ لَا تُعِيْذُ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْقَتْلِ “(فتح الباری شرح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ فتح مکہ کعبہ نہ تو کسی گنہگار کو پناہ دیتا ہے اور نہ ہی واجب شدہ سزا کے نفوذ میں روک بنتا ہے۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں اسے اسی جگہ زمزم اور مقامِ ابراہیم کے درمیان قتل کر دیا گیا۔( ابو داؤد کتاب الجہاد باب قتل الاسير ولا يعرض علیہ الاسلام و فتح الباری شرح بخاری کتاب المغازی باب غزوہ فتح مکہ لکھا ہے کہ ابو برزہ الا سلمی نے اسے قتل کیا تھا۔(ابو داؤد کتاب الجہاد باب قتل الاسير ولا يعرض علیہ الاسلام) یہ ہے اس کا اصل واقعہ۔پس اس کے کھاتے میں بد عہدی، قصاص اور محاربت کے واضح اقدام موجود ہیں۔علاوہ ازیں وہ اپنے ساتھ اشاعت فحشاء والی داشتائیں بھی رکھتا تھا۔جن کا ذکر آئندہ صفحات میں مذکور ہے۔اس کے اور اس کی داشتاؤں کے یہ جرائم انہیں کھلم کھلا محارب ثابت کرتے ہیں۔مگر اپنے جھوٹے عقیدے کی تائید میں قائلین قتل شاتم از راه کذب و بدیانتی اسے پیش کرتے چلے جاتے ہیں۔اس کی تفصیلات صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں بھی درج ہیں مگر وہاں پر بھی یہ ہر گز مذکور نہیں کہ " فتح مکہ کے دن آنحضور صلی الم نے ابن خطل کو اس وجہ سے کہ وہ شاتم رسول تھا حرم میں قتل کروا دیا۔“