توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 131 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 131

توہین رسالت کی سزا 131 } قتل نہیں ہے 16 عبد العزی بن خطل شاتم رسول کے قتل کے جواز میں لکھا ہے کہ ” صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور صلی الی یکم نے ابن خطل کو اس وجہ سے کہ وہ شاتم رسول تھا حرم میں قتل کر وا دیا۔“ (ناموس رسول اور قانون توہین رسالت صفحہ 182) یہاں مصنف نے واضح جھوٹ سے کام لیا ہے۔صحیح بخاری میں کسی ایک جگہ بھی ابن خطل کے شاتم ہونے کا ذکر نہیں بلکہ صحاح ستہ میں اور موطا امام مالک میں بھی اس کا ذکر نہیں کہ رسول اللہ صلی الی الم نے اسے شاتم ہونے کی وجہ سے قتل کروایا تھا۔مختلف نوعیت کی سزاؤں اور تعزیرات کے واقعات کو کھینچ تان کر شتم و توہین رسول کی ذیل میں لانا پرلے درجہ کی علمی بدیانتی ہے۔ابن خطل کا اصل واقعہ یہ ہے کہ اس کا نام عبد العزی تھا اور قبیلہ بنوشیم بن غالب سے تعلق رکھتا تھا۔وہ فتح مکہ سے قبل مدینہ آکر مسلمان ہو گیا تھا۔آنحضرت صلی للی یکم نے اس کا نام بدل کر عبد اللہ رکھا۔اس لئے بعض کتب میں اس کا نام عبد اللہ بن خطل بھی آیا ہے۔آپ نے اسے زکوۃ وصدقات کی وصولی کے لئے بعض بستیوں میں بھیجا۔آپ نے اس کی مدد کے لئے ایک اور انصاری کو بھی اس کے ساتھ کر دیا۔ابن خطل نے اسے راستے میں شہید کر دیا اور خود مرتد ہو کر ملہ فرار ہو گیا۔شاعر ہونے کی وجہ سے اس نے آنحضرت صلی اللہ ظلم کی شان میں ہجو یہ شاعری بھی شروع کر دی۔مکہ میں اس کی دو داشتا ئیں تھیں جو اس کی اسلام دشمن کارروائیوں میں اس کی آلہ کار تھیں۔وہ اس کے اشعار گا گا کر لوگوں کو آپ اور اسلام کے خلاف اشتعال دلاتی تھیں۔امر واقع یہ ہے کہ ابن خطل کے سر پر بد عہدی کا جرم بھی تھا اور شہید انصاری کا قصاص بھی۔ظاہر ہے کہ اس کے قتل کے حکم میں یہ وجوہات کار فرما تھیں۔جب رسول اللہ صلی ا ہم نے سکتے