توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 124
توہین رسالت کی سزا 124 قتل نہیں ہے مرکزی کردار کے نام کا نہ تو روایت کرنے والے کسی راوی کو علم ہو اور نہ ہی صحابہ میں سے کسی ایک کو۔اس میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ عکرمہ نے یہ حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔یہ درست ہے کہ حضرت ابن عباس ایک بہت بڑے عالم دین اور صاحب زہد و اتقاء صحابی تھے۔مگر یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ آپ کے ساتھ ظلم یہ کیا گیا ہے کہ آپ کی طرف ایسی روایات منسوب کر دی گئی ہیں جو آپ نے بیان نہیں کیں۔(اس حقیقت کا ذکر عکرمہ کے تعارف میں گزر چکا ہے۔مگر آپ صرف روایات کے پہلو سے ہی مظلوم نہیں ہیں ، بلکہ تفاسیر کے پہلو سے بھی اپنے ہی دوستوں نے آپؐ پر ہمیشہ تیر چلائے ہیں اور آپ کی طرف آیات قرآنیہ کی غلط تفسیریں منسوب کی ہیں۔چنانچہ امام جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے: دو هذِهِ التَّفَاسِيرُ الطَّوَالُ الَّتِي اَسْنَدُوهَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرُ مَرْضِيَّةٍ وَرُوَاتُهَا مجَاهِيْلٌ - ( الاتقان: جلد 2 باب النوع الثامن فی طبقات المفسرین۔صفحہ 188 - الناشر دار الندوۃ الجدیدہ بیروت) کہ یہ لمبی تفسیریں جن کو مفسرین نے حضرت ابن عباس کی طرف منسوب کیا ہے، ناپسندیدہ / ناقابل قبول ہیں اور ان کے راوی مجہول ہیں۔علامہ شوکانی نے بھی یہ بات بڑی کھول کر بیان فرمائی ہے۔آپ لکھتے ہیں: وَمِنْ جُمْلَةِ التَّفَاسِيرِ الَّتِي لَا يُوْثَقُ بِهَا تَفْسِيرُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَإِنَّهُ مَرْوِيٌّ مِنْ طَرِيقِ الكَذَّابِينَ “۔(الفوائد المجموعه في الاحاديث الموضوعه از علامه الشوکانی صفحه 111، ومطبوعه در مطبع محمدی لاہور 1303ھ صفحہ 104) کہ وہ تمام تفسیریں میں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، تفسیر ابن عباس بھی ہے کیونکہ وہ جھوٹوں کی راہ (اسناد) سے روایت ہوئی ہیں۔