توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 123 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 123

توہین رسالت کی سزا 123 } قتل نہیں ہے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ اس واقعے کے نامکمل اور نامعلوم کوائف کے پیش نظر نحضرت صلی اللہ ولیم نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔مگر واضح ہو کہ اس میں آپ نے ہر گز کوئی مستقل قانون نہیں بنایا کہ جو آپ کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے تو اس کا خون اکارت جائے گا۔نہ ہی آپ نے یہ قانون بنایا ہے کہ جو چاہے اٹھے اور اپنی کسی انگیخت کی بناء پر کسی کو قتل کر دے اور پھر دعوی کر دے کہ اس نے آپ کو گالی دی تھی۔رسول اللہ صلی الم نے ایسی بد لگا می کی اجازت کبھی بھی نہیں دی۔اس روایت پر کتاب بلوغ المرام فی احادیث الاحکام کے حوالے سے یہ کہنا کہ ”یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ ہم کو برا کہنے والا قتل کیا جائے گا اور مسلمان ہونے کی صورت میں مرتد ہو جائے گا اور اس سے توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔“ ناموس رسول اور قانون توہین رسالت صفحہ 182) ایک انتہائی ظالمانہ بات ہے۔اس روایت میں آنحضرت صلی اللہ کا کسی قسم کا کوئی حکم نہیں ہے کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا یا اگر وہ مسلمان ہے تو وہ مرتد ہو جائے گا۔یہ شرح کرنے والوں کی اپنی وحشیانہ ذہنیت سے جنم زدہ الفاظ ہیں۔مذکورہ بالا حادثہ تو ایسا تھا کہ جس کی تفصیلات یا حقائق کا سوائے مزعومہ قاتل کے کسی کو علم نہ تھا۔اس کا کوئی گواہ نہیں تھا۔لہذا جو بیان قاتل نے دیاوہ کسی چشم دید شاہد کا بیان تو نہیں تھا، وہ تو ایک قاتل کا بیان تھا۔اس سے اس طرح اصول وضع کرنے کی جسارت کرنا اور آنحضرت علی ای کمی کی طرف انہیں منسوب کرنا بذاتِ خود آپ کے بلند تشریعی مقام کی تنقیص ہے۔مزید پہلو: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ اس روایت میں مارنے والے کا نام مذکور نہیں ہے ، اور نہ ہی مقتولہ کا نام مذکور ہے۔یعنی مزعومہ قاتل بھی مجہول ہے اور مقتولہ بھی۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ایسی روایت جس پر ایک عقیدے یا قانون کی بنیاد پڑ رہی ہو ، اس کے