توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 115 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 115

توہین رسالت کی سزا { 115} قتل نہیں ہے میدان بدر میں ملے تو حضور صلی الی یکم کے انہیں جلایا نہیں بلکہ قلیب بدر میں دفنا دیا۔پس اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آگ میں ٹھکانے سے جو مراد کتاب "الصارم۔۔۔۔۔۔میں لی گئی ہے ، قرآن کریم اور سنت و عمل رسول اللہ صلی علیم کے خلاف ہے۔اس لئے قابل رڈ ہے۔اگر ایک وضعی روایت پر بناکر کے اس کی تائید میں آنحضرت صلی للی کم کا ایک فرمان پیش کیا گیا ہے اور آپ پر جھوٹ باندھنے والے کو مار کر جلانا اس کے معنے قرار دیئے گئے ہیں تو پھر قرآن کریم میں جو بیبیوں جگہ آگ کے ٹھکانے والوں کا ذکر ہے ، ان سب کو ان کی موت کے بعد جلا دینا چاہئے تھا۔مگر ایسا کبھی بھی نہیں کیا گیا اور ایک بار بھی نہیں کیا گیا۔پس یہ ایک حتمی ثبوت ہے کہ ” الصارم۔۔۔۔۔۔“ کا یہ استدلال درست نہیں ہے۔یہ تو قرآنِ کریم کے حوالے سے اس بحث کا ایک علمی اور واقعاتی پہلو تھا۔مگر اس مذکورہ بالا استدلال کے بعد الصارم۔۔۔میں اگلی روایت یہ درج کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم نے جس آدمی کو قتل کرنے اور جلانے کے لئے بھیجا تھا، اسے واپس بلا کر پھر یہ فرمایا تھا: " انی قد أَمَرْتُكَ أَنْ تَضْرِبَ عُنُقَهُ وَأَنْ تَحْرِقْهُ بِالنَّارِ، فَإِنْ أَمْكَنَكَ اللَّهُ مِنْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ، وَلَا تُحْرِقْهُ بِالنَّارِ، فَإِنَّهُ لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ، وَلَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ كُفِيْتَهُ۔کہ میں نے تمہیں اس کی گردن اڑانے اور اسے آگ میں جلانے کا حکم دیا تھا تو اگر اللہ تجھے اس پر قدرت عطا کرے تو اس کی گردن اڑا دینا اور اسے آگ میں مت جلانا، اس لئے کہ آگ کا عذاب صرف وہ ذات دیتی ہے جو آگ کی مالک ہے اور میر اخیال ہے کہ تمہاری جان اس سے چھوٹ جائے گی۔یہ دونوں روایتیں اکٹھی درج کی گئی ہیں۔دوسرے یہ کہ پہلی روایت میں آگ میں جلانے کا حکم ہے اور دوسری میں تردید ہے۔یہ دونوں ایک دوسری سے متصادم ہیں۔اس لئے ان میں سے بہر حال ایک درست ہے اور دوسری نہیں ہے۔