توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 89
توہین رسالت کی سزا 89 } قتل نہیں ہے 10 زندیق سوزی شاتم رسول کی سزا قتل ہے، اس کی تائید میں یہ بھی بار بار کہا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ نے ایسے لوگوں کو جلا دیا تھا۔اس کے تحت جس روایت کا ذکر کیا جاتا ہے ، اس کا مکمل متن حسب ذیل ہے: عَنْ عِكْرَمَةَ قَالَ : أَتِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِزَنَادِقَةٍ فَأَحْرَقَهُمْ- فَبَلَغَ ذُلِكَ ابْنَ عَبّاسٍ، فَقَالَ : لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أَحْرِقْهُمْ - لَنَهَى رَسُولُ اللهِ على الله ، لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ، وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ عليه و الله " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ( صحیح بخاری کتاب الجہاد و السير باب لا يُعَذِّبُ إِعَذاب الله ) وو عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت علی کے پاس کچھ زندیق پیش کئے گئے۔آپ نے ان کو جلا دیا۔یہ خبر جب ابن عباس کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : اگر میں ہو تا تو انہیں نہ جلا تا۔کیونکہ رسول اللہ صلی الل ولم نے ایسا عذاب دینے سے منع فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ خود دیتا ہے۔البتہ آپ کے اس قول کے مطابق میں انہیں لاز ما قتل کرتا کہ جو اپنا دین بدلے اسے قتل کر دو۔(جب یہ واقعہ ہوا، اس وقت حضرت ابن عباس بصرہ میں حضرت علی کے مقرر کردہ امیر تھے۔) زندیق وہ ہوتا ہے جو ظاہر میں تو اپنا اسلام دکھائے مگر دل کا کفر چھپائے۔کہتے ہیں کہ یہ فارسی فقرے ” زندہ کر دای“ سے مغرب (یعنی اسے عربی بنایا گیا) ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کثرت استعمال سے کردای کاک، زندہ کے ساتھ لگا رہ گیا اور اگلے حروف کالعدم ہو گئے اور