توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 88 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 88

توہین رسالت کی سزا 88 } قتل نہیں ہے یہ روایت اپنے تمام کوائف کے ساتھ اسی واقعے کی نشاندہی کرتی ہے جس کا ذکر گزشتہ روایت میں گزر چکا ہے۔اس میں فرق صرف یہ ہے کہ یہ روایت سنن ابی داؤد میں مذکور ہے اور اس کی سند بھی موجود ہے۔جہانتک اس کی سند اور احوالِ رواۃ کا تعلق ہے تو اس روایت کا ایک راوی مغیرہ ہے جسے تدلیس سے متہم کیا گیا ہے۔یعنی وہ خود روایات گھڑ تا ہے۔ابن حبان نے اسے مدنیس قرار دیا ہے یعنی اس روایت میں ملاوٹ یا تحریف کی گئی ہے۔اس روایت میں ابن ابی شیبہ کا نام بھی آتا ہے۔اس کے بارہ میں لکھا ہے کہ ” وَلَهُ أَوْهَا “ کہ وہ وہمی تھا۔تیسر ا راوی عبد اللہ بن الجراح ہے۔جس کے متعلق لکھا ہے کہ ” يُخْطِی“ وہ خطا کار ہے۔ابو حاتم الرازی نے اسے ” كَثِيرُ الْخَطَاءِ“ ودو یعنی کثرت سے غلطیاں کرنے والا قرار دیا ہے۔پس ایسے مشکوک اور کمزور راویوں والی روایت کسی عقیدے یا قانون کے لئے بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔شاتم عورت کے قتل پر مبنی مذکوہ بالا روایات ایک ہی طرح کی ہیں۔کچھ معمولی تبدیلی کے ساتھ مختلف کتب میں مختلف راویوں اور مختلف الفاظ کے ساتھ درج ہوئی ہیں۔اسی طرح یہ سب روایات بنیادی طور پر ابتداء میں بیان شدہ روایت بابت عصماء بنت مروان سے ملتی جلتی ہیں۔ان کے راویوں میں اور نفس واقعہ میں واضح طور پر اضطراب کا پایا جانا ان کے غیر مستند ہونے کی کافی دلیل ہے۔*****