تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 79
تحریک جدید رید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد هفتم خطاب فرمودہ 07 جولائی 1985ء بہت پہلے پہنچ جانا چاہیے تھا۔اور ہم اس غفلت کی وجہ سے دوہرے طور پر متاثر ہورہے ہیں۔اگر ایک پہیہ کمزور ہے اور دوسرے پیسے کی رفتار کا ساتھ نہیں دے رہا تو گاڑی کی رفتار کمزور پیسے کی رفتار سے ناپی جائے گی۔اور گاڑی کی رفتار تیز ہونے کی بجائے کم ہوتے ہوتے آخر کار ایک وقت ایسا آئے گا کہ گاڑی آگے بڑھنے کی بجائے اپنے گرد ہی چکر لگاتی رہے گی۔پس گاڑی کا توازن بگڑ جائے گا اور اس کی رفتار تیز ہونے کی بجائے کم ہوتی جائے گی۔جو کہ بہت خطرناک بات ہے۔یہی حال تبلیغ نہ کرنے والی جماعت کا ہوتا ہے۔اور یہ ایک ایسی سزا ہوگی، جو ہم اپنے ہی ہاتھوں اٹھا ئیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ جماعت، جو دوسروں کو اپنے اندر شمولیت کی دعوت دینے کے فریضے کو بھلا بیٹھے، وہ اپنی اولادوں کو بھی کھو دیتے ہیں۔اور ان بلندیوں کو کھو دیتے ہیں، جو انہوں نے پہلے حاصل کی تھیں۔اور ہر پہلو سے اچھائی کا معیار گرنے لگتا ہے۔اسی طرح جماعت کی اندرونی تربیت کی ضامن بھی وہ تبلیغ ہے، جو بیرونی دنیا میں کی جاتی ہے۔اگر آپ تبلیغ کا معیار گرا دیں تو آپ کبھی بھی اخلاق کے اس اعلیٰ معیار کو قائم نہیں رکھ سکتے ، جس کی آپ سے توقع کی جاتی ہے۔وہ قوم جو اپنے اندر ہی گھومتی رہے، اس میں عبادت ، اخلاق اور قربانی کا معیار بھی گر جاتا ہے۔اور کچھ عرصہ کے بعد ایسی قوم باقی دنیا سے بالکل کٹ کر رہ جاتی ہے۔اور وہ اس حیثیت کو اس لئے قبول کر لیتے ہیں کہ یہ ایک آسان رستہ ہوتا ہے۔مثلاً یہودیوں کو دیکھئے کہ انہوں نے بھی دوسروں کو تبلیغ کرنے کا سلسلہ بند کر دیا اور اس حیثیت کو قبول کر لیا۔اس کے نتیجہ میں وہ باقی دنیا کے معاملات سے بالکل منقطع ہو گئے اور ہزاروں سال سے بیرونی دنیا میں ان کی ترقی بالکل رک گئی۔اور اس امر نے خود ان کے لئے بھی اور دوسری دنیا کے لئے بھی بے شمار مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔اور آج یہ واحد سبب ہی دنیا کے بعض بڑے بڑے مصائب کا موجب بن گیا ہے۔جب آپ باقی دنیا سے منقطع ہو کر رہنے لگتے ہیں تو آپ کی کیفیت وہی ہوتی ہے، جو اس چیز کی ہوتی ہے، جسے تھر موس کی بوتل میں بند کر دیا گیا ہو اور باہر کے درجہ حرارت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔اس صورت میں نہ آپ کو باہر والے لوگوں کا کوئی احساس ہوتا ہے اور نہ باہر والوں کو آپ کا کوئی احساس ہوتا ہے۔ایک دوسرے سے کلی لا تعلقی ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں آپ اس تکلیف کو ، جو آپ کو یا آپ کی جماعت کو پہنچتی ہے، بے حد محسوس کرتے ہیں۔لیکن باقی لوگوں کی تکالیف کا آپ کو ذرہ بھی احساس نہیں ہوتا۔تب دونوں گروہوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے سخت دلی اور نفرت کے احساسات ترقی کرنے لگتے ہیں۔اور دونوں کے درمیان ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے، جس کا مقصد ایک دوسرے کے 79