تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 835
** اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 نومبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ان کے فیصلے خالصہ اس بات پر قائم ہوتے ہیں کہ اللہ، غیر اللہ پر غالب آجائے اور اللہ کی محبت غیر اللہ کی محبت پر غالب آجائے۔اس لئے کسی ایسے خطرے کو برداشت نہیں کر سکتے۔اس کے خلاف نبرد آزما ہونا ، ان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے، جس سے نظام جماعت پر حملہ ہورہا ہو۔اس بناء پر وہ فیصلے ہوتے ہیں لیکن دنیا میں بہت سے نئے آنے والے مختلف جگہوں سے دین میں بعد میں شامل ہونے والے اس مضمون کو گہرائی سے نہیں سمجھتے۔اس لئے وہ بعض دفعہ دشمن کے پروپیگینڈے کا شکار ہو جاتے ہیں۔بہر حال ایک یہ بھی دور تھا، جب اس رنگ میں کوشش کی گئی۔اور بعض دفعہ پھر بھی ایسی کوششیں کی جائیں گی۔لیکن آپ یا درکھیں اگر آپ خلیفة المسیح سے آپ کی بیعت کچی ہے، اگر خلیفة المسیح پر آپ کا اعتماد ہے اور آپ جانتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور آج دنیا میں سب سے زیادہ خدا کی نمائندگی کا اس کو حق حاصل ہے تو پھر اپنے فیصلوں اور اپنی آراء کو اس کی رائے پر اور اس کے فیصلے پر بھی ترجیح نہ دیں۔اگر آپ نے کبھی ترجیح دی تو حبل اللہ سے آپ کا ہاتھ چھٹ جائے گا اور قرآن کریم کی آیت آپ کو حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں دے گی۔آپ مشورہ دیتے ہیں اور مشورے میں تقویٰ ضروری ہے۔اور بسا اوقات ایک ناتجربہ کار آدمی تقویٰ پرمبنی مشورہ بھی دیتا ہے اور وہ مشورہ قابل قبول نہیں ہوتا۔اس لئے آخری فیصلہ دین میں نبی اور نبی کے بعد خلیفہ کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے“۔ور آپ جتنے بھی مشورے دیتے ہیں، اپنی انا کی خاطر نہیں دیتے، اپنی قومیت کی خاطر نہیں دیتے، اپنے رنگ اور نسل کی خاطر نہیں دیتے، محض اللہ کی خاطر دیتے ہیں۔اور اس لئے وہ جس کی بیعت آپ نے اللہ کی خاطر کی ہے، اس کے فیصلے کو خدا کی خاطر قبول کرنا، آپ کے ایمان کا جز ہے۔آپ کے ایمان کا جز ہی نہیں بلکہ آپ کے ایمان کی بنیادی شرائط میں داخل ہیں۔یہی وہ تربیت ہے، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پائی۔اور یہی وہ تربیت ہے، جو خلفاء نے ہمیشہ جماعت کی کی۔اور اسی تربیت میں ہم پل کر جوان ہوئے ہیں۔میں کسی قیمت پر یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس عظیم تربیت سے آپ کے قدم ہٹنے دوں، اس راہ سے آپ کو بھٹکنے دوں۔اس لئے میں خوب کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں کہ حبل اللہ سے تعلق کا یہ مطلب ہے۔آپ میں سے جو خدا سے وفا کرتے ہیں، وہ لازماً خدا کے نمائندوں سے وفا کریں گے۔اور مجھے ان کے متعلق کوئی بھی خدشہ نہیں۔خدا خود ان کی حفاظت فرمائے گا اور جو بے وفائی کے جذبے دل میں رکھتا ہے اور احمدیت کو قومی نفرتوں کے لئے ایک آلہ کار بنانا چاہتا ہے، اس کی کوششیں مردود ہوں گی۔میں یقیناً 835