تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 829 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 829

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد وو اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 1987ء جس قوم میں یہ صفات پیدا ہو جائیں کہ اللہ کے تعلق کے نتیجے میں ان کے سارے تعلق قائم ہوں اور ہر اس تعلق کی عظمت ان کے دل میں قائم ہو جائے، جو اللہ کے تعلق کے نتیجے میں قائم ہوا ہے، ان کی حمیت ان کی غیرت برداشت نہ کر سکے کہ اس شخص پر ہاتھ ڈالے کسی کی زبان یا کسی کا ہاتھ اس شخص پر دراز ہو ، جس سے وہ خدا کی خاطر محبت کرتا ہے۔ایسی جماعت کو کون منتشر کر سکتا ہے؟ کیسے ممکن ہے کہ اس جماعت کا شیرازہ کوئی بکھیر سکے۔اور ایسی جماعت کے اندر ایک ایسی عظیم الشان مقناطیسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو ہدایت کی طرف بلانے کی اہل بن جاتی ہے۔دعوت الی اللہ کا اس مضمون سے بڑا گہرا تعلق ہے۔برائیوں کو دور کرنے کے لئے جو آپ نصیحت کرتے ہیں، اس کا اس مضمون سے بڑا گہرا تعلق ہے۔جب تک آپ کے اندر یہ بنیادی صفات پیدا نہ ہو جائیں کہ آپ خدا کے ہو جائیں اور خدا کے ہونے کے نتیجے میں آپ کے تعلق استوار ہوں ، اس وقت تک آپ کی نصیحت میں وزن پیدا نہیں ہوگا ، اس وقت تک آپ کی نصیحت میں طاقت پیدا نہیں ہوگی۔زبان کی " بات تو ہوگی لیکن دلوں کو تبدیل کرنے کی اس میں کوئی طاقت نہیں ہوگی کوئی اہلیت نہیں ہوگی۔۔۔۔اس معاشرے میں جس میں آپ زندگی بسر رہے ہیں۔۔۔یہاں تو قدم قدم پر صرف مومنوں کے لئے نہیں بلکہ غیر مومنوں کے لئے بھی خطرات ہیں۔اور ان لوگوں کے لئے بھی خطرات ہیں، جن کا یہ معاشرہ ہے۔اور اتنے زیادہ خطرات ہیں کہ آپ ان کو شمار نہیں کر سکتے۔ہر قدم پر روحانی زندگی کے لئے اس ملک میں ایک چیلنج ہے۔اور آپ نے صرف اپنی زندگی نہیں بچانی بلکہ غیروں کی زندگی بچانی ہے۔غیروں کو ان خطرات سے محفوظ کرنا ہے۔دلائل کے ذریعے آپ ایسا نہیں کر سکیں گے۔تعلق باللہ کو مضبوط کریں اور اس تعلق باللہ کے نتیجے میں خود ایک ہوں، خود ایک دوسرے سے محبت پیدا کریں۔یا یوں کہنا چاہئے کہ اس تعلق باللہ کے اظہار کے طور پر آپ ایک ہو جائیں۔اور خود ایک طبعی قانون کے طور پر آپ کے دل ایک دوسرے کے ساتھ باندھے جائیں۔تب آپ میں وہ عظمت پیدا ہوگی، جس کے نتیجے میں آپ کی نصیحتوں میں وہ عظمت پیدا ہو جائے گی، آپ کے کلام میں ایک وزن پیدا ہوگا۔ایک ایسی قوت ہو گی کہ دوسرا اس کا انکار نہیں کر سکتا۔۔اس لئے آپ کو اپنے گردو پیش کو برائی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور اپنے ماحول کو نیکی کی طرف بلانا چاہئے اور نیک نصیحت اور جذبے کے ساتھ ایسا کرنا چاہئے۔اگر آپ اس طرح کام شروع کریں گے تو لازما لوگ آپ کی آواز پر لبیک کہیں گے۔اگر دلائل کے رستے اور منطق کی دقیق راہوں سے آپ دنیا کو اپنی طرف بلانے کی کوشش کریں گے تو اول تو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں کہ 829