تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 827
تحریک جدید - ایک الہی تحریک " اقتباس از خطبه جمعه فرموده 13 نومبر 1987ء واعتصموا بحبل الله جميعاً خطبہ جمعہ فرمودہ 13 نومبر 1987ء امریکہ سے روانگی سے پہلے یہ میرا آخری خطبہ ہے، جو اس دورے میں، میں یہاں دینے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔اس دورے کے تجربے کی روشنی میں، جس میں مجھے بہت سی امریکہ کی احمدی جماعتوں کے اکثر ممبران سے ملنے کا موقع ملا، میں آپ کو بعض نصائح کرنی چاہتا ہوں۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ ان نصیحتوں کو آپ مضبوطی سے پکڑ لیں گے۔اور اگر آپ ایسا کریں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت آپ کو یا اس پیارے دین کو، جس کے ساتھ آپ چھٹے ہوئے ہیں، یعنی دین اسلام، اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی“۔بعض نصائح کو زیادہ کھول کر اور اپنے تجربے کی روشنی میں بعض پہلوؤں سے اجا گر کر کے " آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔پہلی نصیحت یہ فرمائی گئی ہے کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا اللہ کی رسی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑ لو۔حبل اللہ سے کیا مراد ہے؟ اس کے متعلق بار ہا جماعت کے علماء کی طرف سے اور اس سے پہلے خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی طرف سے جماعت کے سامنے یہ بات کھولی گئی ہے کہ حبل اللہ سے مراد وہ لوگ ہیں، جو خدا کی طرف سے پیغام لے کر آتے ہیں۔اور اول طور پر جبل اللہ سے مراد اللہ کے نبی ہیں اور اللہ کے پیغمبر ہیں۔وہی وہ رسی ہے، جس کو مضبوطی سے اجتماعی طور پر پکڑنے کی ان آیات میں نصیحت فرمائی گئی ہے۔نبوت کے بعد یہ رسی خلافت کے نام سے موسوم ہوتی ہے اور اسی پہلو سے خلفاء کے ساتھ مضبوطی سے اپنا تعلق قائم کرنا جماعتی زندگی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اور اس تعلق میں بیچ میں کوئی اور واسطہ بیان نہیں فرمایا گیا۔اور اس تعلق میں واقعہ عملی زندگی میں بھی کوئی اور واسطہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔خلیفہ وقت اور احمدی مسلمان، ان کے درمیان ایک ایسا تعلق ہے، جس میں کوئی نظام جماعت اور کوئی نظام جماعت کا نمائندہ حائل نہیں ہوتا۔اور یہی وہ تعلق ہے، جو سب سے پہلے نبی اپنے اور اپنے متبعین کے درمیان قائم فرماتا ہے۔اور اسی تعلق کو جاری رکھنے کے لئے نظام خلافت 827