تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 778 of 935

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ہفتم۔ 1985 تا 1987) — Page 778

اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 16 اکتوبر 1987ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ہفتم مذہبی اقدار چھوڑ دیں، نفسیاتی لحاظ سے میں آپ کو بتاتا ہوں، ایک لازمی حقیقت ہے، جسے اگر کوئی قوم بھول جائے گی تو کبھی بھی فلاح نہیں پاسکتی۔وہ تو میں جو احساس کمتری سے آزاد ہو جایا کرتی ہیں، جو سیدھی راہ پہ چلنا جانتی ہیں، قطع نظر اس کے کہ کوئی ان کو دیکھ رہا ہے کہ نہیں دیکھ رہا کوئی ان کی عزت کر رہا ہے یا نہیں کر رہا۔یہی وہ قومیں ہیں، جو انبیاء کی کوک سے جنم لیا کرتی ہیں۔انبیاء یہ قو میں بنایا کرتے ہیں اور اس کے بعد بڑی بڑی تو میں ہلاک ہو جایا کرتی ہیں اور یہ تو میں عظمت پاتی ہیں۔کیونکہ وہ خدا کے نام سے عظمت پاتی ہیں۔اس لئے آپ خوش نصیب ہیں۔کیوں نہیں سمجھتے کہ آپ کو ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے، کوئی آپ کو سینے سے لگائے یا نہ لگائے۔آپ وہ بنیں، جو سینوں سے لگائیں اور احسان کے طور پر لوگوں کو سینوں سے لگا ئیں۔کیونکہ خدا نے آپ کو چن لیا رحمت کے لئے اور نعمتوں کے لئے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر احساس کمتری سے ہر احمدی آزاد ہو جائے۔وہ جن کے رنگ نسبتاً صاف ہیں اور جن کو خدا نے نسبتاً زیادہ دولتیں عطا کی ہیں، ان کا احساس کمتری بھی ان کو ہلاک کر سکتا ہے اور ضرور کر دے گا ، اگر وہ اس سے باز نہ آئے۔اور وہ تو میں جو بظا ہر دنیا میں کم درجے پہ شمار کی گئی ہیں، اگر وہ احساس کمتری کا شکار ہوں گی تو ان کو بھی احساس کمتری ہلاک کر دے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سارے راز ہمیں سکھا دیئے ہیں۔دنیا کا سب سے بڑا ماہر نفسیات آدم سے لے کر آخری انسان تک جتنے بھی لوگ پیدا ہوئے ، ان میں سب سے اونچا ماہر نفسیات حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کیونکہ آپ اللہ کے مزاج شناس تھے۔خدا نے اپنا مزاج آپ کو بتایا تھا۔جس نے انسان کی فطرت پیدا کی اور وہی ایک راہ ہے، جس سے انسانی فطرت کا معائنہ کیا جاسکتا ہے۔تعصبات سے پاک خالص اللہ کی نظر سے انسان کو دیکھا جائے تو کوئی عارضی پردہ حائل نہیں ہو سکتا، انسان کے مطالعہ اور فطرت کے درمیان۔اس لئے میں آپ کو بتارہا ہوں کامل یقین کے ساتھ حکمت کی بنا پر کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر فطرت کا مطالعہ کرنے والا نہ کبھی پیدا ہوا اور نہ کبھی آئندہ پیدا ہو سکتا ہے۔اور آپ نے فرمایا ایک موقع پر کہ خدا کو جو لوگ بہت ہی نا پسند ہیں، ان میں سے ایک قسم وہ ہے، جو غریب اور بے حال ہونے کے باوجود متکبر ہیں۔(مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر: 197) یہ احساس کمتری کی تفصیل بیان فرمائی جارہی ہے۔وہ لوگ جن کے پاس کچھ نہ ہو یا غریبانہ حالت میں زندگی بسر کرتے ہوں یا قو میں ان کو تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہوں، اگر وہ آگے سے تکبر کا اظہار 778